امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 28 ستمبر: کانگریس نے اتوار کو کہا کہ بی جے پی کے ’’جھوٹے وعدے‘‘ اور اس کی قیادت والی مرکزی حکومت کی ’’بدعہدی‘‘ لداخ میں پیدا ہونے والی احتجاجی تحریک کی اصل وجہ ہے۔
جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی (جے کے پی سی سی) کے صدر طارق قرہ نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
"یہ احتجاج بی جے پی کے منشور میں کیے گئے جھوٹے وعدوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے چھٹے شیڈول (آئین کے) کا وعدہ کیا تھا۔ یہ احتجاج دراصل اس بدعہدی اور پچھلے پانچ برس میں وعدوں کی عدم تکمیل کے خلاف ہے۔‘‘
انہوں نے کہا کہ اگر بی جے پی اپنے وعدوں پر قائم رہتی تو حالات یہاں تک نہ پہنچتے۔
"لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے، اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور مکالمے کو سمت دینے کے بجائے یہ (بی جے پی) کانگریس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ وہ اپنی بدانتظامی اور وعدوں کی عدم تکمیل کا ملبہ کانگریس پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں،‘‘ قرہ نے کہا۔
ریاستی درجہ اور لداخ کو آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبے کے حق میں شروع ہوا احتجاج 24 ستمبر کو پرتشدد ہو گیا، جس میں چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس واقعے کے بعد ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک، جو اس احتجاج کی قیادت کرنے والوں میں شامل تھے، کو قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراست میں لے لیا گیا۔
جے کے پی سی سی صدر نے کہا کہ کانگریس بدھ کو ہونے والی آگ زنی اور فائرنگ کی تائید نہیں کرتی اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔
وانگچک کی این ایس اے کے تحت گرفتاری کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں قرہ نے کہا کہ اس طرح کے اقدام سے احتجاج دبایا نہیں جا سکتا۔
"اگر حکومتِ ہند یہ سمجھتی ہے کہ وانگچک کو گرفتار کرکے اور انہیں یو ٹی سے باہر بھیج کر وہاں کے تشدد پر قابو پایا جا سکتا ہے تو یہ ان کی بھول ہے،‘‘ انہوں نے کہا۔
اس معاملے کو ’’انتہائی حساس‘‘ اور قومی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے قرہ نے کہا کہ شاید بی جے پی یہ حقیقت نظر انداز کر رہی ہے کہ لداخ دو دشمن ممالک — پاکستان اور چین — سے گھرا ہوا ہے۔
"چین پہلے ہی لداخ کی سرزمین میں داخل ہو چکا ہے۔ سونم اور مقامی رکن پارلیمان بھی یہ بات کہہ چکے ہیں۔ قومی سلامتی کو اہمیت دینے کے بجائے وہ اپنی انا اور ’استعمال کرو اور پھینک دو‘ کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،‘‘ انہوں نے مزید کہا۔
قرہ نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ آج مقامی انتظامیہ اور مرکزی حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، وہی وہ لوگ ہیں جنہیں بی جے پی اور مرکز نے آرٹیکل 370 کی منسوخی کا جشن منانے کے لیے ’’استعمال‘‘ کیا تھا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس وقت کانگریس کا وانگچک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وانگچک کے والد 1970 کی دہائی میں جموں و کشمیر حکومت میں نائب وزیر رہے تھے، لیکن 1987 میں ’’پارٹی مخالف سرگرمیوں‘‘ کے الزام میں کانگریس سے معطل کر دیے گئے تھے۔
قرہ نے کہا”اس کے بعد سے ان کا کانگریس کے ساتھ کوئی رشتہ نہیں رہا۔ وانگچک کے تمام بھائی بہن بی جے پی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ وانگچک کے ایک بھائی بی جے پی لیہ یونٹ کے نائب صدر ہیں،‘‘ ۔











