امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی : سپریم کورٹ میں 6 اکتوبر کو ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی انگمو کی ہیبیس کارپس درخواست پر سماعت ہوگی۔ یہ درخواست نیشنل سیکیورٹی ایکٹ کے تحت ان کی حراست کے خلاف دائر کی گئی ہے۔
جسٹس اروند کمار اور این وی انجاریا پر مشتمل بنچ اس اہم کیس کی سماعت کرے گا۔ گیتانجلی انگمو نے اپنے شوہر کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سونم وانگچک کو لداخ میں پرتشدد مظاہروں کو بھڑکانے کے الزام میں NSA کے تحت حراست میں لیا گیا ہے۔ انہیں راجستھان کی جودھپور سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
یہ کارروائی لیہہ میں ہونے والے تشدد کے بعد کی گئی، جس میں چار افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوئے تھے۔ ان پر NSA کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ گیتانجلی انگمو نے سوشل میڈیا پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہیں سونم وانگچک کی صحت یا حراست کی وجوہات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔
انہوں نے مرکز پر تنقید کرتے ہوئے لداخ پولیس پر لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال برطانوی ہند جیسی ہے۔ گیتانجلی انگمو نے سونم وانگچک پر پاکستانی انٹیلی جنس آپریٹو سے رابطے کے الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ انہوں نے لداخ پولیس پر "ایجنڈے” کے تحت کام کرنے کا الزام لگایا۔
24 ستمبر کو ہونے والے تشدد میں چار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ مظاہرے لداخ کو ریاستی درجہ دینے اور اسے آئین کے چھٹے شیڈول میں شامل کرنے کے مطالبات کے نتیجے میں ہوئے تھے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی تھی۔ اس واقعے کے بعد ہی سونم وانگچک کو حراست میں لیا گیا۔









