امت نیوز ڈیسک /
سرینگر، 18 اکتوبر : وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ ریزرویشن کی منصفانہ تقسیم سے متعلق کابینہ کی ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کو اُس وقت تک عوام کے سامنے نہیں لایا جا سکتا جب تک لیفٹیننٹ گورنر اس کی منظوری نہ دیں۔
ایک مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے وضاحت کی کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ رپورٹ چند دنوں میں منظرِ عام پر لائی جائے گی، بلکہ انہوں نے کہا تھا کہ "کابینہ ذیلی کمیٹی کی رپورٹ کو کابینہ میمو کی شکل میں تیار کر کے لیفٹیننٹ گورنر کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔”
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ رپورٹ کو ایل جی تک پہنچنے سے پہلے عوامی کرنا غیر قانونی ہے۔
ان کے بقول، “یہ سب راتوں رات نہیں ہو سکتا۔ کوئی بھی حکومت دباؤ میں کام نہیں کرتی، اور میں آخری شخص ہوں جس پر کوئی دباؤ ڈال سکے۔ ایک طے شدہ طریقہ کار ہے جس پر عمل ہو رہا ہے۔ ایل جی تک رپورٹ پہنچنے سے پہلے اسے جاری کرنا نہ صرف غیر مناسب بلکہ غیر قانونی کے قریب ہے۔”
انہوں نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ حکومت کچھ چھپا رہی ہے۔
“جب کابینہ میمو حتمی شکل اختیار کر لے گا، دستخط ہو جائیں گے، اور ایل جی کے پاس پہنچ جائے گا، تو تمام تفصیلات عوام کے سامنے رکھی جائیں گی۔ لیکن ہم کسی کے دباؤ میں آ کر طریقۂ کار کو بائی پاس نہیں کریں گے۔ ہم نے اپنا عمل مکمل کر لیا ہے، اور یہ محض چند دنوں کی بات ہے کہ ایل جی دستخط کریں گے اور رپورٹ عوام کے سامنے آ جائے گی،” وزیراعلیٰ نے کہا۔ — (کے این او)








