شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، کشمیر (SKUAST-K) نے ایک بار پھر وادی کے ثقافتی اور سیاحتی منظرنامے میں جدت اور زندگی کا رنگ بھردیا ہے اس بار ایک شاندار گُلِ داؤدی شو کے ذریعے، جس نے تاریخی لال چوک کو رنگوں اور خوشبوؤں سے سجے ایک دلکش چمن میں بدل دیا۔
وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی کی بصیرت افروز قیادت میں، ایس کے یو اے ایس ٹی-ک پچھلے تین برسوں سے گُلِ داؤدی کو ’’خزاں کے رنگ‘‘ کے طور پر فروغ دینے میں مصروف ہے، تاکہ بہار کے ٹیولپ سیزن کے بعد پیدا ہونے والے سیاحتی خلا کو پُر کیا جا سکے۔
اس سال کے اقدام کے تحت، شہر کے مرکز لال چوک میں 3000 سے زائد گُلِ داؤدی کے گملے نصب کیے گئے، جنہیں سکاسٹ کی فیکلٹی و طلباء کی ٹیم نے انتہائی محنت سے تیار کیا۔ ایک ہی رات میں لال چوک جو برسوں سے اپنی سیاسی و تجارتی حیثیت کے لیے معروف رہاہے، ایک یورپی طرز کے پھولوں سے سجے چوک میں تبدیل ہوگیا۔ دکانداروں اور راہگیروں نے صبح جب آنکھ کھولی تو سامنے رنگوں، خوشبو اور تازگی سے لبریز ایک نیا چہرہ تھا۔
یہ تقریب 18 اکتوبر کو منعقد ہوئی، جس میں ڈویژنل کمشنر کشمیر جناب انشل گرگ (IAS) اور کمشنر سری نگر میونسپل کارپوریشن جناب فضل الحسیب سمیت بڑی تعداد میں عوام نے شرکت کی۔ سب نے ایس کے یو اے ایس ٹی-ک کی اُن کاوشوں کو سراہا جنہوں نے سائنس، فن، اور شہری جمالیات کو یکجا کیا ہے۔
شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدام نہ صرف شہر کو خوبصورت بناتا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ جامعات عوامی زندگی، ماحولیات، اور سیاحتی معیشت میں کس طرح تبدیلی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
تقریب کے دوران ایک موسیقی کی شام بھی منعقد کی گئی، جس نے شہریوں میں خوشی، اُمید اور برادری کے جذبے کو تازہ کر دیا۔ اس کے بعد لال چوک پر دیوالی کی تقریب ہوئی، جہاں یونیورسٹی کے طلباء نے سینکڑوں دیئے روشن کیے — جو امن، ہم آہنگی اور ایک نئی صبح کی علامت تھے۔
شہریوں کی خود بخود شرکت نے اس چوک کو روشنی، ہنسی، اور موسیقی سے بھر دیا ،ایک منظر جو کشمیر کی امن و ترقی کی واپسی کی جھلک پیش کرتا تھا۔
فیسٹیول کا اگلا مرحلہ یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس شالیمار میں منعقد ہوا، جہاں ہزاروں سیاحوں، شہریوں اور معزز شخصیات نے گُلِ داؤدی کے رنگا رنگ پھولوں کی نمائش سے لطف اٹھایا۔
لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا نے موقع پر یونیورسٹی کی اس کوشش کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے سیاحتی موسم کو خزاں اور سردیوں تک بڑھانے میں مدد ملی ہے، اور دیگر محکموں کو بھی اس مثال کو آگے بڑھانا چاہیے تاکہ باغات، پارکس، اور شہری مراکز مزید دلکش بنائے جا سکیں۔
وائس چانسلر پروفیسر نذیر احمد گنائی نے اپنے خطاب میں کہا:’’ہماری سوچ یہ ہے کہ پھول صرف خوبصورتی کی علامت نہ رہیں بلکہ روزی، امن، اور خوشحالی کی علامت بنیں۔ ان اقدامات کے ذریعے ہم کشمیر کو سال بھر کے پھولوں کے مرکز کے طور پر متعارف کروا رہے ہیں جہاں سائنس اور ثقافت ایک دوسرے سے مل کر ہم آہنگی اور امید کا پیغام دیتے ہیں۔
اس اقدام کے ذریعے ایس کے یو اے ایس ٹی-ک نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا ہے کہ زرعی سائنس لیبارٹریوں اور کھیتوں سے نکل کر انسانی زندگی، پائیدار سیاحت، اور معاشرتی ترقی کا حصہ بن سکتی ہے۔ اس نے کشمیر کو امن، تخلیق اور ثقافتی احیاء کی نئی پہچان دی ہے۔
یہ کریڈٹ ایس کے یو اے ایس ٹی-کشمیر اور اُس کے وائس چانسلر کو جاتا ہے جنہوں نے خزاں کے خاموش مہینوں میں سیاحتی سرگرمیوں کو توسیع دی۔ اُن کی قیادت میں یونیورسٹی نے تعلیم، تحقیق، جدت، اور عوامی خدمت کے تمام میدانوں میں مثالی برتری حاصل کی ہے، اور اب وہ ملک کی نمایاں جامعات میں شمار ہوتی ہے۔
ان کی سرپرستی میں، یونیورسٹی نے ایک نئی سمت طے کی ہے جس کا مقصد جموں و کشمیر کو ایک ماڈل بایو اکانومی ریاست بنانا ہے، جو 5000 کروڑ روپے کے جامع زرعی ترقیاتی پروگرام (HADP) سے تقویت پاتی ہے۔
اُن کی کاوشوں نے ایس کے یو اے ایس ٹی-ک کو ہندوستان کی سب سے زیادہ ثقافتی طور پر متنوع زرعی یونیورسٹی بنا دیا ہے، جہاں ملک بھر اور بین الاقوامی طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں جو قومی اتحاد اور شمولی ترقی کی ایک مثالی علامت ہے۔‘‘
واضح رہےشیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، کشمیر ایک ممتاز ریاستی زرعی یونیورسٹی ہے، جو تحقیق، اختراع، اور سماجی رسائی کے میدان میں قومی سطح پر نمایاں مقام رکھتی ہے۔موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت، زرعی کاروباری اختراع، اور کمیونٹی پر مبنی منصوبہ بندی کے اقدامات نے اسے نیشنل انسٹی ٹیوشنل رینکنگ فریم ورک (NIRF) 2025 میں ہندوستان کی تین سرِ فہرست ریاستی زرعی جامعات میں شامل کر دیا ہے۔










