امت نیوز ڈیسک //
بڈگام، 22 اکتوبر : نیشنل کانفرنس کے امیدوار آغا سید محمود نے بدھ کے روز کہا کہ رکن پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی کی حمایت نہ ملنے سے ان کی انتخابی کارکردگی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
کشمیر نیوز ٹرسٹ سے بات کرتے ہوئے آغا محمود نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کسی فرد سے بڑی جماعت ہے اور اس کی جڑیں پورے حلقے میں مضبوط ہیں۔ انہوں نے کہا، “این سی نے روح اللہ کو بنایا، روح اللہ نے این سی کو نہیں بنایا۔ اُن کے حامی خاندان اور خیرخواہوں میں ضرور ہیں، لیکن آخر میں ووٹ نیشنل کانفرنس کے نشان اور نظریے کو ہی پڑے گا۔”
آغا محمود نے زور دیا کہ یہ انتخاب کسی فرد کے نام پر نہیں بلکہ جماعت اور اس کی میراث کے نام پر لڑا جا رہا ہے۔ “یہ الیکشن کوئی شخص نہیں بلکہ نیشنل کانفرنس لڑ رہی ہے۔ ہمارے کارکن اور وفادار ووٹر پارٹی کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔”
اپنے امکانات کے بارے میں پُر امید لہجے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بڈگام کا انتخابی معرکہ یقیناً چیلنجنگ ہے، مگر انہیں کامیابی کی امید ہے۔ “ہر انتخاب ایک سخت آزمائش ہوتا ہے، لیکن میں پُرامید ہوں کہ ہم سرخرو ہوں گے۔”
نائب وزیر اعلیٰ کے خلاف مقامی احتجاج سے متعلق سوال کے جواب میں آغا محمود نے معاملے کو معمولی قرار دیا۔ “یہ صرف مَگام اور نوگام کے چند خیرخواہوں کا ردعمل تھا جنہوں نے اپنی شکایات کا اظہار کیا۔ ایسے چھوٹے احتجاج انتخابی ماحول میں عام بات ہوتی ہے۔”
انہوں نے آخر میں کہا کہ بڈگام ضمنی انتخاب کا فیصلہ نیشنل کانفرنس کی کارکردگی اور عوام کے اعتماد پر منحصر ہوگا۔ “ہماری اصل طاقت پارٹی کی تاریخ، قیادت، اور عوام کا یقین ہے۔”(کے این ٹی)









