امت نیوز ڈیسک //
سرینگر میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ان کی جماعت، نیشنل کانفرنس (این سی)، نے اپنے اتحادیوں کے مکمل تعاون کے ساتھ پوری سنجیدگی سے الیکشن لڑا، لیکن چند قانون سازوں نے پارٹی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نے پوری کوشش کی کہ چاروں نشستیں جیتیں، لیکن آخر میں کچھ ارکان نے ہمیں دھوکہ دیا۔ میں نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ عوام بخوبی جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔‘‘
عمر عبداللہ نے پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) اور کانگریس کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے این سی امیدواروں کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اندرونی غداری کے باعث پارٹی کو چوتھی نشست سے محروم ہونا پڑا۔
انہوں نے کہا، ’’میں پی ڈی پی اور کانگریس کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے حق میں ووٹ دیا۔ اب اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کچھ لوگوں نے ہمیں دھوکہ دیا۔ ایسے لوگ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے، مگر وقت آنے پر غداری کی۔‘‘
پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد لون کا نام لیے بغیر عمر عبداللہ نے کہا کہ سجاد لون کی خاموشی اور ووٹنگ سے غیرحاضری بی جے پی کے حق میں گئی۔
انہوں نے کہا، ’’سجاد لون بی جے پی کے خلاف نہیں جانا چاہتے تھے، اسی لیے انہوں نے ووٹ ڈالنے سے گریز کیا۔ ان کی خاموشی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے تینوں کامیاب راجیہ سبھا ارکان جموں و کشمیر کے عوام کی نمائندگی ایمانداری سے کریں گے اور ریاست کی بحالی، علاقائی شناخت کے تحفظ اور عوامی مسائل کو پارلیمان میں بھرپور انداز میں اٹھائیں گے۔
انہوں نے کہا، ’’نیشنل کانفرنس جموں و کشمیر کے عوام کی امنگوں کی ترجمان ہے۔ ہمارے نمائندے نہ صرف ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کریں گے بلکہ ان تمام مسائل پر بھی آواز اٹھائیں گے جو عام شہریوں سے متعلق ہیں۔‘‘
راجیہ سبھا انتخابات میں نیشنل کانفرنس نے تین نشستیں جیتیں جبکہ بی جے پی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب رہی، جس کے بعد ریاستی سیاست میں زبردست بحث و مباحثہ اور خود احتسابی کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ [کے این ٹی]








