سرینگر : جموں و کشمیر میں راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج کے بعد سیاسی لیڈران کی جانب الزامات، جوابات اور بیانات کا سلسہ بھی تیز ہو گیا ہے۔ ایم ایل اے ہندوارہ اور پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے نیشنل کانفرنس (این سی) پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ساتھ ’خفیہ مفاہمت‘ کا الزام عائد کیا ہے جس کے جواب میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے دعویٰ کیا کہ ان کی پارٹی کو پرانے سیاسی چہروں کے ذریعے ’دھوکہ‘ ملا ہے۔
سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے این سی حکومت کو ریزرویشن پالیسی پر بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ’’کشمیریوں کو منظم طریقے سے سرکاری ملازمتوں سے دور رکھا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ’’اس حکومت نے میرٹ کو دفن کر دیا ہے۔ ’’ہم اس پالیسی کے خلاف زمینی سطح پر رجسٹریشن مہم شروع کر رہے ہیں اور اگر ضرورت پڑی تو ہم سڑکوں پر نکل آئیں گے۔‘‘
ایم ایل اے ہندوارہ نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی – پیپلز کانفرنس – لوگوں کو اس کے خلاف متحرک کرے گی۔ ’’موجودہ ریزرویشن پالیسی خطے کے نوجوانوں کے لیے خطرہ ہے اور اس سے قابل امیدواروں کا شب و خون مارا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے خبردار کیا کہ ’’اگر احتجاج یا بھوک ہڑتال کی ضرورت پڑی تو ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔‘‘
راجیہ سبھا انتخابات کے نتائج پر انہوں نے کہا کہ ’’این سی کی کراس ووٹنگ سے بی جے پی کو براہ راست فائدہ پہنچا ہے۔‘‘ انہوں نے دعوی کہا کہ ’’یہ اضافی ووٹ کبھی بھی چوتھے امیدوار کے لیے کافی نہیں تھے۔ کراس ووٹنگ کے بغیر بھی چوتھی سیٹ جیتنا ممکن نہیں تھا۔ کراس ووٹنگ خود این سی نے کی ہے۔‘‘
لون نے مزید دعویٰ کیا کہ این سی کے سات اراکین نے ’’براہ راست اپنے ووٹ بی جے پی کو تحفے میں دیے ہیں۔ اور یہ ایک ’فکسڈ میچ‘ تھا۔ وہیں پارٹی جو سیکولرازم اور بی جے پی مخالف سیاست کا نعرہ لگاتی ہے وہ آرام سے بی جے پی کی گود میں بیٹھی ہے۔‘‘
وزیر اعلیٰ کو بنایا نشانہ
این سی کے نائب صدر عمر عبداللہ کی تنقید کرتے ہوئے لون نے الزام عائد کیا کہ کانگریس کو جان بوجھ کر ہارنے والی سیٹ کی پیشکش کی گئی۔ انہوں نے کہا: ’’عمرعبداللہ پوچھتے رہے کہ کانگریس نے سیٹ نمبر چار کے لیے انتخاب کیوں نہیں لڑا؟ انہیں اس سیٹ کی پیشکش کی یہ جانتے ہوئے کہ یہ جیتنا ناممکن ہے۔ جبکہ کانگریس ایک قومی پارٹی کے طور پر ترجیح کی مستحق تھی۔‘‘
سجاد لون نے این سی کے سابق ممبران پارلیمنٹ پر بھی دلی میں جموں و کشمیر کے لیے بہت کم کام کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’وہ صرف ذاتی فائدے کے لیے وہاں گئے تھے۔ وہ لوگوں کے لیے کچھ واپس نہیں لائے۔‘‘ دفعہ 370 کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے لون نے دعویٰ کیا کہ 5 اگست 2019 سے پہلے این سی لیڈروں اور دلی کے درمیان ’آدھی رات کی ملاقاتیں‘ ہوئی تھیں، جو ان کے بقول دھوکے سے بھری ہوئی تھیں۔ انہوں نے کشمیریوں بیدار ہونے کا مشورہ دیا۔
رکن اسمبلی کے مطابق بی جے پی ان ہی لوگوں کے ذریعے جیت کو یقینی بناتی ہے۔ ’’وہ ووٹروں کو بے وقوف بنانے کے لیے مہم کے دوران بی جے پی کو گالی دیتے ہیں لیکن بند دروازوں کے پیچھے ان کے ساتھ کام کرتے ہیں۔‘‘ پیپلز کانفرنس کے سربراہ نے کہا راجیہ سبھا ووٹنگ کے عمل سے دور رہنے کے فیصلے پر ’’اللہ کا شکر‘‘ ادا کیا اور کہا: ’’اگر میں ووٹ دیتا تو تمام انگلیاں مجھ پر اٹھتی۔‘‘
عمر عبداللہ کا بیان
دریں اثناء، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے سرینگر میں نامہ نگاروں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’راجیہ سبھا انتخابات کے دوران ان کی پارٹی کو ’دھوکہ‘ دیا گیا لیکن سب جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔‘‘ عمر عبدللہ نے این سی امیدواروں کی حمایت کرنے پر کانگریس اور دیگر جماعتوں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’این سی کا ایک بھی ووٹ ضائع نہیں گیا۔ میں اپنے اراکین کی وفاداری سے مطمئن ہوں۔‘‘









