دنیا بھر میں دوردرشن کی مختلف چینلوں پر مختلف زبانوں میں پروگرام ٹیلی کاسٹ ہوتے ہیں جنہیں لوگ دیکھتے ہیں اور پسند کرتے ہیں۔ ان پروگراموں میں دنیا بھر کی تازہ ترین خبریں، حالات حاضرہ، بچوں اور نوجوانوں کے پروگرام، خواتین کے لئے پروگرام، مختلف مذاہب کے پروگرام، تفریح کے پروگرام، طنزومزاح کے پروگرام، کھیلوں سے متعلق پروگرام، صحت سے متعلق پروگرام اور دیگر کئی سارے پروگرام قابل ذکر ہیں۔ یہاں ہمارے ملک میں بھی ہرایک ریاست میں دوردرشن کیندر نے مقامی زبانوں میں مختلف پروگراموں پر مبنی مختلف چینلز قائم کی ہیں جن سے مقامی زبانوں میں مختلف پروگرام ٹیلی کاسٹ کئے جاتے ہیں اور ان پروگراموں کے زریعے علاقائی زبانوں کے ساتھ ساتھ ملک کے مختلف صوبوں کے کلچر کو فروغ ملتا ہے اور ہمارے ملک کے صدیوں پرانے کلچرکو نئی نسل تک منتقل کرنے میں مدد ملتی ہے اتنا ہی بلکہ دور درشن کی اس طرح کی کوششوں سے ہمارے ملک کا کلچر آج تک زندہ ہے اور اس کلچر کو زندہ رکھنے کے لئے ان پروگراموں میں مقامی فنکاروں کو موقع فراہم کیا جاتا ہے۔
بالکل اسی طرح جموں و کشمیر کے ثقافتی کلچر کو دنیا بھر میں پزیرائی حاصل ہے اور اس روایتی کلچر کو زندہ رکھنے کے لئے جموں و کشمیر کے فنکاروں نے انتھک محنت کی جس کے لئے دوردرشن کیندر سرینگر نے بھی مقامی فنکاروں کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہاں کے کلچر کو فروغ دینے کے علاوہ اسے محفوظ رکھنے اور آنے والی نسلوں تک پہنچانےکی غرض سے سال2000ء میں کاشر چینل کا قیام عمل میں لایا جسے آج بھی DD کاشر سے جانا جاتا ہے۔ اس چینل کے قیام سے یہاں کے سینکڑوں مقامی فنکار اس چینل سے منسلک ہوگئے اور عوام تک طنزومزاح اور تفریح کے پروگرام پہنچانے میں پیش پیش رہے یہ وہ دور تھا جب کشمیر میں حالات خراب ہوگئے اور ان دنوں خوف اور ڈر کا ایسا ماحول تھا کہ کوئی بھی شخص ریڈیو یا ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں شرکت کرنے سے کتراتا تھا۔لیکن وادی کے کئی ایسے نامور فنکار ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ساتھ جڑے رہے جنہوں نے ناظرین اور سامعین کو مختلف طنزومزاح اور دیگر تفریحی پروگراموں کے زریعے محظوظ کیا اور ٹیلی ویژن کے ساتھ ساتھ ریڈیو کی ساخت ناظرین اور سامعین میں برقرار رکھی۔ اسی دور میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی بدولت وادی کے ہی کئی فنکار عوام میں راتوں رات مقبول عام ہوگئے اگرچہ ان فنکاروں میں کئی فنکار اب اس دنیا میں نہیں ہے لیکن کئی ایسے فنکار آج بھی اسی جدوجہد میں لگے ہیں کہ کب دوردرشن کی دوریاں ختم ہو جائیں اور ہم پھر سے عام لوگوں کی طنزومزاح اور دیگر تفریحی پروگراموں کے زریعے پرانی یادیں تازہ کریں۔
حالانکہ آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور آج بھی لوگوں کو سوشل میڈیا پر بنائی گئی مختلف چینلوں کے زریعے طنزومزاح کے پروگراموں سے محظوظ کیا جاتا ہے لیکن دوردرشن اور سوشل میڈیا میں آسمان وزمین کا فرق ہے دوردرشن کا سکرپٹ پوری چھان بین کے ساتھ ناظرین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر دکھایا جانے والا بیشتر مواد غیر معیاری ہوتا ہے اور جس سے دیکھنے سے سماج پر برا اثر پڑنے کا خطرہ بھی لاحق ہوتا ہے۔وہ بھی ایک دور تھا جب گاؤں، شہر یا محلے میں گنے چنے لوگوں کے پاس ٹیلی ویژن ہواکرتا تھا لیکن جب دوردرشن نے مقامی فنکاروں کو مختلف طنزومزاح اور تفریحی پروگراموں میں شامل کیا تو لوگوں نے قرضہ لیکر ٹیلی ویژن خریدے تو کیا یہ دوردرشن کی کامیابی نہیں تھی؟ لیکن دوردرشن کے اچانک کام بند کرنے سے جہاں سینکڑوں مقامی فنکار بیروز گار ہوگئے وہیں دوردرشن کے لاکھوں ناظرین دوردرشن سے دور ہوگئے۔کیا یہ ممکن ہےکہ دوردرشن اور ریڈیو سے شہرت پانے والے شیخ طارق جاوید، مشتاق علی احمد خان، ضمیر عشائی، نظیر جوش، مشتاق بقال، قاضی فیض، شیخ فاروق،ڈاکٹر عیاش عارف، ظہور زیدی، عمر امتیاز، گل جاوید خان،شیخ محمد حنیف، مکھن لال صراف،گل ریاض، کسم دھر،سیٹھ رفیع، حسن جاوید،شاہد گلفام،میر مشتاق،فرحت صدیقی،مجید وانی،جی ایم وانی،جان مجروح جیسے نامور مقامی فنکار فٹ پاتھ پر ریڑھی لگاکر کوئی سامان بیچنے کا کام کریں؟ کیا یہ ان کی بے عزتی نہیں ہے؟ کیا یہ ان کی شہرت اور مقبولیت پر بدنما داغ نہیں ہے؟
اگر ملک کی ہر ایک ریاست میں دوردرشن چینلوں میں اس ریاست کے مقامی فنکاروں کو متواتر کام دیا جاتا ہے تو دوردرشن کیند سرینگر(ڈی ڈی کاشیر)سے وابستہ فنکار کام سے محروم کیوں؟ اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہےیہاں کا نوجوان دوردرشن کے ساتھ جڑنا چاہتا ہے لیکن دوردرشن کی دوری سے وہ نوجوان دوردرشن سے دور چلا جاتا ہے۔ یوں تو ہر ایک ریاست کا اپنا کلچر ہوتا ہے اور اس کلچر کو زندہ رکھنے کے لئے اس ریاست کے فنکار دن رات کام کرتے ہیں لیکن جب ان فنکاروں کو کام سے ہی محروم رکھا جاتا ہے تو پھر ہم کلچر کو زندہ رکھنے کی کیا امید کرسکتے ہیں۔فنکار کے زندہ رہنے سے کلچر زندہ ہے جب ایک فنکار کو کام مئیسر ہوگا تب جاکے ہمارا کلچر زندہ رہ سکتا ہے اس لئے اب وقت آگیا ہےکہ دوردرشن کو اپنی دوری کو ختم کرکے اپنے پرانے دور کو شروع کرنا ہوگا اور پہلے کی طرح طنزومزاح اور دیگر باوقار اور سبق آموز پروگراموں کو پھر سے شروع کرکے سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والے غیر معیاری مواد کی روک تھام کے لئے پہل کرنی ہوگی۔امید ہے دوردرشن کی دوری بہت جلد ختم ہوگی اور پھر سے پرانا دور شروع ہوگا تاکہ دوردرشن کے ساتھ پرانے فنکاروں کے ساتھ ساتھ نئے فنکاروں کو بھی جڑنے کا موقع فراہم ہوگا۔










