والدین کے لئے انکی اولاد ہی انکا اہم سرمایہ ہوتا ہے۔یہ اولاد انکی امید اور بھروسہ ہوتا ہے۔اپنی اولاد کو وہ بڑے ناز ونخرے کے ساتھ پالتے ہیں انکو پتہ ہوتا ہے کہ کل کو جب ہم بڑھاپے میں ہونگے یہی اولاد ہمارا سہارا بنے گا.یہ توقعات اور امیدیں تبھی رکھی جاسکتی ہے جب والدین اپنے فرائض پر دیانتداری سے اتریں گے۔اولاد کے تئیں انکی جو ذمہ داریاں ہیں انکو بروئے کار لاکر اپنی اولاد کو سماج کے لئے نمونے کے طور پر سامنے لائیں۔والدین کی غفلت شعاری اور بےجا لاڈلے پن نے کئی گھرانوں کو تباہ وبرباد کیا ہے۔
کون ماں باپ چاہیے گا کہ وہ اپنی اولاد کے ساتھ ضد اور نفرت رکھے گا مگر اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اپنی اولاد کی ہرضد پوری کرے گا۔بچے کی ہرضد اور ہربات ماننے کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ آپ اپنی اولاد کے ساتھ محبت کرتے ہیں۔بچے کی جائز یا ناجائز خواہش اور ضد کو اگر ایک والد لاڈلا پن سمجھتا ہے تو یہ بات واضع ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچے کو اپنے ہی ہاتھوں برباد کرتا ہے۔بچے کے ساتھ محبت پیار اور شفقت ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے لیکن اس بات کا بھی خیال رکھنا ضروری ہے کہ کہیں بچہ یہ نا سمجھ بیٹھے کہ وہ جو چاہیے کر سکتا ہے۔بچے کے ہاتھوں میں پیسہ تھماکر اور پھر کوئی پوچھ گچھ نہ ہو اس سے بھی مستقبل میں منفی نتائج نکل سکتے ہیں۔اولاد اگر والدین کا بیش قیمتی اثاثہ ہے تو کیوں یہ اثاثہ انکے ہی ہاتھوں برباد ہوتا ہے۔غیر ضروری کاموں کو لاڈلے پن کا نام دے کر بچے کی باتوں پر من وعن عمل کرنے سے بچہ تباہ ہوتا ہے۔کتنے خوبصورت گھر اس غفلت شعاری سے لٹے،کتنے محلات میں چراغ بجھ گئے،کتنے بنی بنائے آشیانے افسوس کرتے دیکھے گئے۔
میری ذاتی رائے ہے کہ والدین اور بچے میں تھوڑی سی دوری اگر ہو تو اس سے مثبت نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔نزدیکی نے حیا اور شرم جیسی عظیم چیزیں چھینی ہے۔نزدیکی سے بچوں کی زندگیوں پر بُرا اثر پڑا اور بچے اخلاقی گراوٹ کے شکار ہوگئے۔اب بچے والدین کے سامنے ایسی فضول باتیں اور فضول کام کرتے ہیں کہ انسان کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔اگر ہم کچھ سال پہلے کی طرف نظر دوڑائیں گے تو والدین کے سامنے بچے بیٹھنے سے کانپتے تھے یہ تھا حیا اور شرم کا اثر۔
غلطی والدین کی ہے جنہوں نے بچوں کے عادات بگاڈ کر انکو آزاد چھوڑا۔یہ بات روزِروشن کی طرح عیاں ہے کہ بچے کی پہلی درسگاہ اسکا گھر اور ماں اسکا پہلا استاد ہوتا ہے۔اور جب یہ پہلے ہی بے ادب تیار کیا گیا تو کیا توقع رکھی جاسکتی ہے کہ یہ کل کو یہ سماج میں ایک اچھے انسان کے بطور اپنے فرائض انجام دے گا۔کونسی توقع رکھی جاسکتی ہے کہ یہ کل کو اپنے اساتذہ کا احترام کرے گا۔انکے ساتھ نرم لہجے اور سرجھکا کر بات کرے گا۔
والدین اپنے بچوں کی تربیت میں اپنا کلیدی رول نبھائیں۔بچے کی فضول خواہش کو لاڈلے پن کا نام نہ دیں.بچے پہ جان نچھاور کریں مگر تربیت کو ملحوظ نظر رکھ کر۔تبھی ہم ایک خوبصورت کل اور بہتر سماج کا خواب دیکھ سکتے ہیں۔اللہ ہمارے بچوں کو تربیت کے نور سے سرشار کرکے کامیابی اور کامرانی کے منازل طے کرنے میں اپنی نصرت عطا کرے۔آمین








