امت نیوز ڈیسک //
دہلی: قومی راجدھانی دہلی میں لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب ہوئے دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 9 ہو گئی ہے، جب کہ اس دھماکے میں دو خواتین سمیت بیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دھماکہ شام کو اس وقت ہوا جب علاقہ لوگوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ زخمیوں کو چند کلومیٹر دور ایل این جے پی اسپتال لے جایا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ جس کار میں دھماکا ہوا، اس میں تین افراد سوار تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس بات کی بھی جانچ کر رہے ہیں کہ آیا یہ خودکش حملہ تھا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ "دھماکہ چلتی ہوئی ہنڈائی i20 کار میں ہوا جس میں تین افراد بیٹھے تھے۔ ہمیں زخمیوں کے جسم میں کوئی گولی یا سراخ نہیں ملا، جو کہ دھماکے میں غیر معمولی بات ہے۔ ہم تمام زاویوں سے تفتیش کر رہے ہیں”۔
عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ جیسے کان کے پردے پھٹ گئے اور وہ کئی منٹوں کے بعد بھی واضح طور پر کچھ سن نہیں پا رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ زوردار دھماکے کی آواز آئی ٹی او تک کے وسیع علاقے میں سنی گئی، جو تقریباً دو کلومیٹر تک پھیلا ہوا ہے۔ کئی میٹر دور کھڑی گاڑیوں کے شیشے اور لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔
دو افراد کو حراست میں لے لیا گیا
دہلی پولیس نے کار کے سابقہ مالک محمد سلمان کو دیر شام حراست میں لے لیا اور اس سے گاڑی کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ افسر نے بتایا کہ اس نے اسے ڈیڑھ سال قبل اوکھلا میں دیویندر نام کے ایک شخص کو فروخت کیا تھا۔ دیویندر کو بھی حراست میں لے لیا گیا ہے۔ افسر نے بتایا کہ بعد میں یہ گاڑی امبالہ میں کسی کو فروخت کر دی گئی اور اسے دوبارہ پلوامہ میں طارق نام کے شخص کو بیچ دی گئی۔ پولیس نے پیر کی رات کہا کہ مزید سراغ اکٹھا کرنے کے لیے کار کے فروخت کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
دہلی میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور شہر کے سرحدی مقامات پر سکیورٹی بڑھا دی گئی ہے، گاڑیوں کی چیکنگ تیز کر دی گئی ہے۔ اس سے قبل، پولیس نے لال قلعہ میٹرو اسٹیشن کے قریب دھماکے کے بعد کوتوالی پولیس اسٹیشن میں غیر قانونی سرگرمیوں کے روک تھام ایکٹ (یو اے پی اے) کی دفعہ 16، 18، دھماکہ خیز مواد ایکٹ، اور بی این ایس ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔
وزیر داخلہ امت شاہ نے جائے وقوع پر صورت حال کا جائزہ لیا
وہیں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کل دیر رات دہلی کے لوک نائک اسپتال پہنچے اور دھماکے میں زخمی ہوئے لوگوں سے ملاقات کی۔ ہسپتال سے وہ براہ راست جائے وقوع پر گئے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس سے قبل امیت شاہ نے دہلی پولیس کمشنر ستیش گولچہ اور لوک نائک اسپتال میں ڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے ساتھ میٹنگ کی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ شاہ نے کہا کہ دہلی میں لال قلعہ کے قریب کار دھماکے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کی جائیں گی۔ لوک نائک اسپتال میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا، "آج شام تقریباً سات بجے دہلی کے لال قلعے کے قریب ایک ہنڈائی i20 کار میں دھماکہ ہوا۔ تین سے چار گاڑیوں کو نقصان پہنچا، لوگ زخمی ہوئے، اور کچھ کی موت ہوگئی۔ اسپتال ذرائع کے مطابق اب تک آٹھ لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ کچھ زخمی یہاں زیر علاج ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ "ہم نے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے، مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ جیسے ہی ہمیں دھماکے کی اطلاع ملی، دہلی پولیس کی اسپیشل سیل، کرائم برانچ، این آئی اے، ایس پی جی، اور ایف ایس ایل کی ٹیمیں موقعے پر پہنچیں اور تیزی سے تحقیقات کر رہی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ ہماری ایجنسیاں جلد ہی دھماکے کی وجہ کا تعین کر لیں گی۔”
شاہ نے کہا، "جیسے ہی ہمیں دھماکے کی اطلاع ملی وزیر اعظم مودی نے مجھے فون کیا۔ ابتدائی جانکاری اکٹھی کرنے کے بعد میں نے وزیر اعظم کو بھی مطلع کیا۔” یہ پوچھے جانے پر کہ کیا یہ دہشت گردانہ حملہ تھا، وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا، "ہم تمام پہلوؤں کو دیکھ رہے ہیں اور تمام زاویوں سے جانچ کر رہے ہیں۔ یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ واقعہ کی وجہ کیا ہے۔ جب تک دھماکے کی جگہ سے برآمد ہونے والے نمونوں کا ایف ایس ایل اور این ایس جی سے تجزیہ نہیں کیا جاتا، اس کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہو گا۔”








