امت نیوز ڈیسک //
گوہاٹی: آسام کابینہ نے اتوار کے روز ‘آسام امتناع تعداد ازدواج بل 2025’ کو منظوری دی دے۔ اس کا مقصد سوائے چھٹے شیڈول والے علاقوں کو چھوڑ کر ریاست بھر میں تعدد ازدواج کی روایت کو ممنوع قرار دینا اور ختم کرنا ہے۔
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ یہ بل 25 نومبر کو آسام کے اسمبلی اجلاس میں پاس ہونے کے لیے پیش کیا جائے گا۔ تعدد ازدواج بل کے مطابق ایسے شخص کے لیے شادی ممنوع ہوگی جس کی بیوی باحیات یا قانونی طریقے سے پہلے شریک حیات سے علیحدگی اختیار نہیں کیا ہے یا کسی ایسی شادی کا فریق ہے جو ابھی تک طلاق کے حکم کے ذریعہ منقطع نہ یا رد نہ ہوئی ہو۔
حکومت کے مطابق آسام میں تعدد ازدواج کی ممانعت کا بل 2025 ان خواتین کو ‘آرام’ فراہم کرنے کی کوشش ہے جو تعدد ازدواج کی وجہ سے ‘بے حد تکلیف اور اذیت’ کا شکار ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ نے گوہاٹی کے لوک سیوا بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا، "سماج کو ایسی غلط روایات سے بچانے اور معاشرے کو منظم کرنے کے مقصد سے یہ بل تیار کیا گیا ہے۔”
ان کا مزید کہنا تھا کہ بل میں دو یا اس سے زیادہ شادی کرنے والوں کو سات سال تک کی سخت قید کی سزا دی جائے گی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے ریاست کے لیے کچھ ترقیاتی اسکیموں کو بھی منظوری دینے کا اعلان کیا۔
آسام کی کابینہ نے شمالی گوہاٹی کے رنگ محل میں ایک جدید ترین عدالتی ٹاؤن شپ کی تعمیر کے پہلے مرحلے کے لیے 478.78 کروڑ روپے کو انتظامی منظوری دی۔ اس میں ہائی کورٹ احاطے کی ترقی کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
ریاستی کابینہ نے آسام اسٹارٹ اپ اینڈ انوویشن پالیسی 2025-30 کو بھی منظوری دی، جس کا مقصد آسام کو اگلے پانچ برسوں میں انٹرپرینیورشپ اور اختراع کے لیے ہندوستان کے اہم مرکز کے طور پر قائم کرنا ہے۔ ان پانچ سال کی مدت کے لیے کل مالی اخراجات کا تخمینہ ₹397 کروڑ ہے۔ اسی کے ساتھ ریاستی کابینہ نے شیو ساگر میں ایس یو ۔ کے اے۔ پی ایچ اے یونیورسٹی کے قیام کو منظوری دی ہے۔










