امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعہ کو سرحدی ضلع پونچھ کے میں پاکستانی گولہ باری سے ایل او سی کے نزدیکی علاقوں میں متاثرہ کنبوں کیلئے ایک بڑے پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’انتظامیہ متاثرہ لوگوں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ حکومت 133 نئے مکانات تعمیر کر رہی ہے تاکہ پاکستانی گولہ باری سے متاثرہ کنبوں خاص کر بے گھر ہوئے خاندانوں کو محفوظ اور باوقار رہائش فراہم ہو سکے۔
پونچھ دورے کے دوران ایل جی نے میڈیا نمائندوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’کراس بارڈر شیلنگ کے نتیجے میں جن خاندانوں کو ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے، کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’’شدید متاثرہ 14 خاندانوں میں سے 13 کو مرکزی وزیر داخلہ کی آمد کے دوران ہی سرکاری ملازمت فراہم کی گئی جبکہ ایک بچے کو مستقبل کیلئے امدادی لیٹر جاری کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ پہلے ایس ڈی آر ایف اور مرکزی مالی امداد کے تحت دو لاکھ اور ایک لاکھ روپے فراہم کیے گئے تھے، مگر یہ رقم مکمل تعمیر نو کیلئے ناکافی تھی۔ اس کے بعد ایک معروف سماجی تنظیم ’’ہیومن ریسورس ڈیولپمنٹ سوسائٹی‘‘ نے 133 پکے مکانات کی تعمیر کا بیڑا اٹھایا اور فی گھر کی تعمیر پر تقریباً 10 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔
دریں اثناء، اس موقع پر آپریشن سندور کے جواب میں ہوئی گولہ باری سے متاثرہ شہریوں میں ریلیف بھی تقسیم کیا گیا اور متاثرہ افراد کو یقین دلایا گیا کہ ’’تباہ ہوئے سبھی رہائشی ڈھانچوں کی تعمیر جلد مکمل کی جائے گی۔‘‘









