بڈگام ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آگئے ہیں۔ اگرچہ نیشنل کانفرنس کو شکست کا سامنا کرنا پڑا، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ ہار کسی حد تک این سی کے رکن پارلیمان آغا روح اللہ کی ’سیاسی جیت‘ بھی قرار دی جا رہی ہے۔
ضمنی انتخابات میں توقع کے مطابق سخت مقابلہ دیکھنے کو ملا اور پی ڈی پی امیدوار آغا سید منتظر نے چار ہزار سے زائد ووٹوں سے کامیابی حاصل کی۔ این سی امیدوار کی ہار میں سب سے اہم کردار پارٹی کے اپنے رکن پارلیمان آغا روح اللہ کی ناراضی اور انتخابی مہم سے دوری کو مانا جا رہا ہے۔ اس دوران وہ این سی قیادت اور ریاستی حکومت دونوں پر تنقید کرتے رہے، جس کا سیدھا فائدہ پی ڈی پی امیدوار کو ہوا۔
اسی کے ساتھ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری کی جانب سے آغا روح اللہ کے خلاف دیے گئے بیانات نے بھی این سی کو نقصان پہنچایا۔دوسری طرف آزاد امیدواروں—جبران ڈار کے سات ہزار سے زائد، منتظر محی الدین کے تین ہزار اور سمیر بٹ کے ڈھائی ہزار ووٹ—نے بھی ووٹ بینک تقسیم کیا، جس کا فائدہ بالآخر پی ڈی پی امیدوار کو ہوا۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ عوام نے این سی کے خلاف ناراضی کا اظہار ووٹنگ کے ذریعے کیا، جو بنیادی طور پر پارٹی کی جانب سے آغا روح اللہ کے ساتھ کیے گئے برتاؤ کا ردعمل تھا۔ متعدد تجزیہ کاروں کے مطابق اگر روح اللہ انتخابی مہم میں حصہ لیتے تو ووٹنگ شرح بڑھ سکتی تھی اور پی ڈی پی کے لیے جیت دشوار ہو جاتی۔
عمر عبداللہ، روح اللہ اختلافات میں شدت
نتائج کے فوراً بعد عمر عبداللہ نے بیان دیا کہ آغا روح اللہ نے انتخابی مہم سے کنارہ کش رہ کر ’’سیاسی خودکشی‘‘ کی ہے۔ عمر کے مطابق روح اللہ نے پارٹی کو پیغام دینے کی کوشش کی، مگر اس سے انہیں ہی نقصان ہوگا۔
روح اللہ نے عمر عبداللہ کے بیان کو ’’چھوٹی سوچ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لڑائی اقتدار یا ایم ایل اے بننے کی نہیں، بلکہ جموں و کشمیر کے عوام کے سیاسی، مذہبی اور سماجی حقوق کے تحفظ کی ہے۔
جرمنی سے واپسی پر اپنے حامیوں کے بڑے استقبال کے بعد آغا روح اللہ نے تقریباً ایک گھنٹے تک خطاب کیا اور واضح پیغام دیا کہ انہیں اسمبلی جانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کو اپنی حالیہ غلطیوں کا اعتراف کر کے اصولی اور منظم سیاست کی طرف واپس لوٹنا چاہیے۔
روح اللہ کے خلاف کارروائی کی تیاریاں؟
این سی حلقوں میں ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت سمیت کئی لیڈران آغا روح اللہ سے سخت ناراض ہیں اور ان کے خلاف پارٹی مخالف سرگرمیوں کے الزام میں کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ این سی جلد ہی انہیں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کرنے والی ہے، جس پر حتمی فیصلہ آئندہ ورکنگ کمیٹی میٹنگ میں لیا جائے گا۔
دوسری جانب یہ سوال بھی گردش میں ہے کہ کیا آغا روح اللہ مستقبل میں این سی کا حصہ رہیں گے یا نہیں، حالانکہ فی الحال وہ پارٹی کی ٹکٹ پر رکن پارلیمان ہیں۔ اس سے پہلے یہ قیاس بھی کیا جا رہا تھا کہ وہ نئی سیاسی جماعت قائم کر سکتے ہیں، جس کا اشارہ انہوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹ پر بھی دیا تھا۔ بڈگام الیکشن سے قبل ان کی پی ڈی پی صدر سے ملاقات بھی سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں بڑھا چکی ہے۔
اب سب کی نظریں این سی ورکنگ کمیٹی کے آئندہ اجلاس پر ہیں، جہاں سے ممکنہ طور پر آغا روح اللہ کے سیاسی مستقبل سے متعلق اہم فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ البتہ حالات واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ این سی اور روح اللہ کے راستے علیحدہ ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔









