امت نیوز ڈیسک //
آج جامع مسجد میں جمعہ کے خطبے کے دوران میرواعظِ کشمیر مولوی عمر فاروق نے حکام سے مطالبہ کیا کہ دہلی دھماکے کے بعد بھارت کے مختلف حصوں میں زیرِ تعلیم اور کام کرنے والے کشمیریوں کی ہراسانی کو فوراً روکا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف علاقوں سے ہراسانی کی خبریں موصول ہو رہی ہیں جو انتہائی تشویش کا باعث ہیں۔ ہماچل اور کچھ دیگر مقامات سے اطلاعات ملی ہیں کہ وہاں کشمیریوں کو پریشان کیا جا رہا ہے، اور ہاؤسنگ کالونیوں میں انہیں محض شناخت کی بنیاد پر الگ کر کے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ حکام کی ذمہ داری ہے کہ کشمیریوں کو نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ، جو ان کی جانوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے، فوری طور پر روکا جائے اور ان کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
جموں میں کشمیر ٹائمز کے دفتر پر چھاپوں کا حوالہ دیتے ہوئے میرواعظ نے افسوس ظاہر کیا کہ صحافتی آزادی حکام کا نشانہ بن گئی ہے اور حکومتی مؤقف سے مختلف ہر آواز کو ملک دشمن اور خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد اور منصفانہ میڈیا جمہوریت کی بنیاد ہے، اور اسے خاموش کرنا جمہوری اقدار کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ کشمیر ٹائمز کو وید بھاسن جی کی عظیم وراثت حاصل ہے جسے موجودہ انتظامیہ آگے بڑھا رہی ہے، اور اس ادارے کے خلاف ایسے اقدامات نہایت افسوسناک اور بلاجواز ہیں۔
نوگام دھماکے کا ذکر کرتے ہوئے، جس میں نو سے زیادہ افراد جان سے گئے، میرواعظ نے اس واقعے کو نہایت دردناک قرار دیا کہ اس طرح قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضبط شدہ مواد کو ذمہ داری کے ساتھ ہینڈل اور محفوظ کیا جاتا تو یہ سانحہ روکا جا سکتا تھا۔ میرواعظ نے زور دیا کہ اس قابلِ تدارک سانحے کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جائے اور تحقیقات مکمل کر کے جلد از جلد عوام کے سامنے پیش کی جائیں۔
میرواعظ نے کے پی ڈی سی ایل کی پیک اوقات میں بجلی کے نرخوں پر 20 فیصد سرچارج لگانے کی تجویز پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے اسے عوام کے ساتھ سنگین ناانصافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ لوگ پہلے ہی معاشی بحران کا شکار ہیں، کاروبار زوال پذیر ہیں، ایسے میں سخت سردیوں سے قبل بجلی مہنگی کرنا حکومت کی بے حسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت لوگوں کی مشکلات کم کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کر رہی ہے۔ میرواعظ نے افسوس ظاہر کیا کہ غریبوں کو 200 یونٹ مفت بجلی دینے کے وعدے پر عمل کرنے کے بجائے عوام پر مزید بوجھ ڈالے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس عوام دشمن تجویز کو فوراً واپس لیا جائے۔









