امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 23 نومبر: نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ میاں الطاف احمد نے اتوار کو کہا کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی پارٹی کی اولین ترجیح ہے اور یکم دسمبر سے شروع ہونے والے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں یہ ان کا پہلا اور بنیادی مطالبہ ہوگا۔
خبر رساں ایجنسی کشمیر اِن ڈیتھ نیوز سروس سے فون پر بات کرتے ہوئے میاں الطاف نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور آئندہ بھی پارلیمنٹ میں یہ مطالبہ اٹھاتی رہے گی۔
انہوں نے کہا، “ہم نے بار بار پارلیمنٹ میں اسٹیٹ ہُڈ کی بحالی کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ ہر روز ہم یہی مطالبہ کر رہے ہیں، اور ظاہر ہے کہ پارلیمنٹ میں ہمارا پہلا نکتہ یہی ہوگا۔”
میاں الطاف نے بتایا کہ نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر سے متعلق مختلف اہم مسائل پر متعدد سوالات پارلیمنٹ میں جمع کر دیے ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم نے سرمائی اجلاس کے لیے مختلف معاملات پر کئی سوالات جمع کیے ہیں۔ امید ہے کہ انہیں ایوان کے ایجنڈے میں شامل کیا جائے گا۔”
مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے تمام بلوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا، “پارلیمنٹ میں جو بھی بل پیش کیے جائیں گے، ہم انہیں غور سے پڑھیں گے اور جہاں ضرورت ہوگی اپنی بات رکھیں گے۔ اگر ہمیں وقت ملا تو ہم جموں و کشمیر کے دیگر اہم مسائل بھی اٹھائیں گے۔”
پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس یکم دسمبر سے 19 دسمبر تک متوقع ہے، جس کے دوران 15 ورکنگ ڈیز ہوں گے۔ روایت کے مطابق یہ اجلاس نومبر کے تیسرے ہفتے سے شروع ہو کر کرسمس سے قبل اختتام پذیر ہوتا ہے۔ گزشتہ سال یہ اجلاس 25 نومبر سے 20 دسمبر تک جاری رہا تھا۔










