امت نیوز ڈیسک //
ہانگ کانگ : ہانگ کانگ کے تائی پو میں واقع وانگ فک کورٹ ہائی رائز کمپلیکس میں لگنے والی خوفناک آگ نے بدھ کی دوپہر سے جمعرات تک شہر کو لرزا کر رکھ دیا، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 130 ہوگئی ہے۔ یہ واقعہ جدید دور میں ہانگ کانگ کی بدترین آتشزدگیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
جمعرات کی صبح بھی فائر بریگیڈ کے اہلکار متاثرہ عمارتوں میں آگ بجھانے اور باقی رہ جانے والے افراد کی تلاش میں مصروف رہے۔ سات ٹاورز پر مشتمل اس کمپلیکس میں ہر سمت سے سیاہ دھواں اٹھتا رہا جبکہ کئی فلیٹس کی کھڑکیوں سے اب بھی شعلے جھانکتے دکھائی دیے۔
فائر سروسز کے ڈپٹی ڈائریکٹر آپریشنز، ڈیریک آرمسٹرانگ چان کے مطابق، “ہمارا فائر فائٹنگ آپریشن تقریباً مکمل ہے، مگر ملبے میں موجود انگاروں کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنا سب سے اہم کام ہے۔ اب ہمارے اقدامات سرچ اینڈ ریسکیو پر مرکوز ہوں گے۔”
تاحال اس بات کی واضح معلومات نہیں دی گئیں کہ کتنے افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جون لی نے بتایا کہ جمعرات کی صبح تک 279 افراد سے رابطہ نہیں ہو پا رہا تھا، جبکہ حکام نے دن بھر میں لاپتہ افراد کی تازہ تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آگ بدھ کی سہ پہر اس وقت لگی جب بانس کے اسکیفولڈنگ اور حفاظتی جالی میں اچانک شعلے بھڑکے اور دیکھتے ہی دیکھتے آگ نے سات عمارتوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ چان کے مطابق، آگ غیر معمولی رفتار سے پھیلی، جس سے اندر داخل ہونا انتہائی مشکل ہوگیا۔ “اوپری منزلوں سے ملبہ اور اسکیفولڈنگ گر رہی تھی، اندھیرا، شدید حرارت اور عمارت تک رسائی میں رکاوٹیں ہماری کوششوں میں بڑی رکاوٹ تھیں۔”
اس حادثے میں قریب سو افراد زخمی ہوئے جن میں 11 فائر فائٹر بھی شامل ہیں۔ تقریباً 900 باشندوں کو رات بھر کے لیے عارضی شیلٹر منتقل کیا گیا۔ پولیس نے تعمیراتی کمپنی کے تین افراد دو ڈائریکٹر اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو غفلت برتنے و دیگر الزامات کے تحت گرفتار کر لیا ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلا کہ عمارت کے بیرونی حصے میں استعمال ہونے والا کچھ مواد فائر سیفٹی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، جس سے آگ تیزی سے پھیلی۔
پولیس نے پریسٹیج کنسٹرکشن اینڈ انجینئرنگ کمپنی کے دفتر سے دستاویزات بھی قبضے میں لے لئے ہیں۔ جبکہ عمارت سے انتہائی آتش گیر پلاسٹک فوم پینلز بھی برآمد ہوئے ہیں جن کی تنصیب کے مقاصد تاحال واضح نہیں۔ حکام نے مزید تحقیقات کا اعلان کیا ہے۔









