جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے سامنے اس وقت جو مسائل سب سے زیادہ درپیش ہیں، اُن میں سمارٹ میٹرز کی تنصیب کا معاملہ بھی ہے۔ سرکار میں آنے سے پہلے عمر عبداللہ کا ایک بیان آج سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے، جس میں وہ ایل جی سرکار پر سمارٹ میٹرز لگانے کو لے کر تنقید کرتے ہوئے کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ:’’سمارٹ میٹرز لگانے میں یہ پیچھے نہیں ہٹتے، چاہیے پھر بجلی ہو یا نہ ہو۔ الیکشن ہونے دیں، ہم اس معاملے کو دیکھ لیں گے۔‘‘
تاہم سرکار بننے کے ایک سال بعد، گزشتہ ماہ سرینگر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران عمر عبداللہ نے کہا کہ جب اُن کی چاچی کو سمارٹ میٹر سے کوئی دقت نہیں، تو دیگر لوگوں کو بھی نہیں ہونی چاہیے۔ اس بیان پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
این سی سرکار کی طرف سے انتخابی منشور میں 200 یونٹ مفت بجلی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اب اس فائدے کو سمارٹ میٹرز کی تنصیب کے ساتھ جوڑ دیا گیا ہے۔ عمر عبداللہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ 200 یونٹ مفت بجلی تب ہی ممکن ہے جب سمارٹ میٹرز نصب ہوں۔ الیکشن جیتنے کے بعد سرکار نے یہ بھی واضح کیا کہ مفت بجلی صرف اے اے وائی (انتودیہ انا یوجنا)زمرے کے کنبوں کو دی جائے گی۔ اب سرکار کا مؤقف ہے کہ سو فیصد میٹرنگ کے بعد ہی ان کنبوں کو 200 یونٹ مفت بجلی فراہم کی جائے گی۔
جموں کشمیر میں دو لاکھ بیس ہزار ایسے کنبے ہیں جو اس زمرے میں آتے ہیں اور معاشی طور پر سب سے کمزور سمجھے جاتے ہیں۔ یہ کنبے عام طور پر ایسے آلات استعمال نہیں کرتے جن سے بجلی کی زائد کھپت ہوتی ہے۔محکمہ بجلی کے مطابق جموں کشمیر میں اب تک تقریباً چھ لاکھ پری پیڈ سمارٹ میٹرز نصب کیے جا چکے ہیں جبکہ ہدف 9 لاکھ سمارٹ میٹرز کی تنصیب ہے۔پری پیڈ نظام میں صارفین کو بجلی استعمال کرنے سے قبل اپنے اکاؤنٹ میں ریچارج کرنا ہوگا، اور بیلنس ختم ہونے کی صورت میں بجلی خود بخود منقطع ہو جائے گی۔ حکومت کے مطابق اس نظام کا مقصد بجلی چوری روکنا، شفاف بلنگ، ریئل ٹائم معلومات اور بہتر سپلائی ہے۔
لیکن دوسری جانب سیاسی جماعتوں کا مؤقف ہے کہ این سی نے ماضی میں سمارٹ میٹرز ہٹانے اور مفت بجلی دینے کے وعدے کیے تھے، مگر اب پری پیڈ سسٹم کے ذریعے عوام پر اضافی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ رواں برس پہلگام حملہ، ہند پاک کشیدگی اور سیلابی صورتحال نے کشمیر کی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
سال 2020ء سے جب سے پری پیڈ سمارٹ میٹرز کی تنصیب ایل جی انتظامیہ نے شروع کی تھی ، تب سے کشمیرکے ہر ضلعے میں اسکے خلاف احتجاج ہوئے اور لوگوں ک موقف ہے کہ اس سے بجلی کے بل بڑھ رہے ہیں، جبکہ پری پیڈ نظام میں بیلنس ختم ہونے کا مستقل خوف غریب صارفین کیلئے ذہنی دباؤ کا باعث بنے گا۔ احتجاج کرنے والوں کا الزام ہے کہ لوگوں کو سمجھانے کے بجائے زبردستی میٹر نصب کیے جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی وہ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر سرکار کو بجلی چوری روکنی ہے تو بجلی مہنگی کیوں کی جا رہی ہے؟










