امت نیوز ڈیسک //
پنجی: شمالی گوا کے ایک نائٹ کلب میں سنیچر کی دیر رات سلنڈر پھٹنے کے بعد آگ لگنے سے 25 افراد ہلاک ہو گئے۔ ریاست کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت نے کہا کہ مرنے والوں میں زیادہ تر کلب کے کچن ورکرز ہیں اور ان میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ہلاک ہونے والوں میں "تین سے چار سیاح” بھی شامل ہیں۔
وزیر اعلیٰ ساونت نے جائے وقوع کا دورہ کیا اور اس دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 25 ہلاک شدگان میں سے تین افراد کی موت جھلسنے کے سبب ہوئی اور باقی کی موت دم گھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ابتدائی جانکاری کے مطابق نائٹ کلب نے فائر سیفٹی کے اصولوں کی پابندی نہیں کی تھی۔
یہ واقعہ گوا کے برچ بائی رومیو لین میں آدھی رات کو پیش آیا۔ ریاستی دارالحکومت پنجی سے تقریباً 25 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ارپورہ گاؤں میں یہ کلب گذشتہ سال کھلا۔ "ہم کلب انتظامیہ کے خلاف کارروائی کریں گے اور ان اہلکاروں کے خلاف بھی جنہوں نے حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے باوجود اسے کام کرنے کی اجازت دی۔” ساونت نے مزید کہا۔
ساونت نے کہا کہ ساحلی ریاست میں سیاحتی سیزن کے دوران یہ واقعہ افسوسناک ہے۔ وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ "ہم واقعے کی تفصیلی انکوائری کریں گے اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ "آج کا دن ہم سب کے لیے گوا میں بہت تکلیف دہ ہے۔ ارپورہ میں آتشزدگی کے ایک بڑے واقعے نے 25 لوگوں کی جان لے لی۔ میں انتہائی غمزدہ ہوں اور ناقابل تصور نقصان کی اس گھڑی میں تمام سوگوار خاندانوں کے ساتھ دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔ میں نے جائے حادثہ کا دورہ کیا اور اس واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ آگ لگنے کی وجوہات، حفاظتی اور فائر سیفٹی کی پیروی کی گئی یا نہیں، اس کی جانچ کی جائے گی۔ قصوروار پائے جانے والوں کو قانون کے تحت سخت ترین کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کسی بھی لاپرواہی سے سختی سے نمٹا جائے گا۔”
وہیں وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی حادثے میں مرنے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی اور کہا کہ انہوں نے گوا کے وزیر اعلیٰ سے بات کی ہے۔ پی ایم مودی نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، "ارپورہ، گوا میں آتشزدگی کا حادثہ انتہائی افسوسناک ہے۔ میرے خیالات ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا۔ زخمی جلد صحت یاب ہوں۔ گوا کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت جی سے صورت حال کے بارے میں بات کی۔ ریاستی حکومت متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کر رہی ہے۔”










