امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں و کشمیر کے ضلع رامبن میں پولیس نے ایک بنگلہ دیشی خاتون کے خلاف بھارت میں غیر قانونی طریقے سے داخل ہونے اور رہائش اختیار کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ یہ کارروائی سنیچر کے روز قابلِ اعتماد اطلاع ملنے کے بعد انجام دی گئی۔
پولیس ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ہپو اختر نام کی خاتون جس کا تعلق بنگلہ دیش کے ضلع ہیبی گنج سے ہے، چندرکوٹ کے کنفر علاقے میں موجود پائی گئی، جہاں وہ گذشتہ چند دنوں سے رہائش پذیر تھی۔
ترجمان نے بتایا کہ ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ خاتون بغیر پاسپورٹ اور ویزا کے بھارت میں داخل ہوئی، اور وہ اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کر رہی تھی، جس سے اس کی موجودگی کے مقصد پر ‘سنگین شبہات’ پیدا ہوئے۔
پولیس نے امیگریشن اور فارنرز ایکٹ کی متعلقہ دفعات کے تحت چندرکوٹ تھانے میں مقدمہ درج کر کے معاملے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہے۔ عوام سے اپیل کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ وہ کسی بھی غیر قانونی اور غیر ملکی شہری کو پناہ، رہائش یا کسی قسم کی مدد فراہم نہ کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے افراد کے ساتھ کسی بھی قسم کا معاہدہ یا شادی کرنے سے پہلے ان کی قانونی حیثیت کی تصدیق کریں، ورنہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ پولیس ضلع سطح پر داخلی سلامتی برقرار رکھنے اور امیگریشن قوانین کے سخت نفاذ کے لیے پرعزم ہے۔
واضح رہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران ملک بھر میں مبینہ بنگلہ دیشی شہریوں کے نام پر بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سلسلہ چلا۔ اسی بیچ سپریم کورٹ نے بنگلہ دیش ملک بدر کر دیے گئے چھ افراد کے کیس کی سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت کی شدید سرزنش کی اور ملک بدر کیے گئے لوگوں کو وطن واپس لانے اور انہیں سنوائی کا مناسب موقع فراہم کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم کے نتیجے میں ملک بدر کی گئی سنالی خاتون اور اس کے بیٹے کو گذشتہ جمعہ کی شام بنگلہ دیش سے واپس لایا گیا۔










