امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 8 دسمبر: کشمیر میں لائیو اسٹاک اور فوڈ سپلائی مانیٹرنگ نظام پر سنگین سوالات اُس وقت کھڑے ہوگئے جب جانوروں کے حقوق کے کارکنوں نے ایک ٹرک میں 119 مردہ مرغیاں برآمد کیں، حالانکہ اس سے چند گھنٹے قبل ہی محکمۂ پشو پالن نے اسی ٹرک میں موجود 2700 مرغیوں کو مکمل طور پر “صحت مند اور زندہ” قرار دیتے ہوئے کلین سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا۔
یہ واقعہ اتوار کی دوپہر اینیمل ریسکیو کشمیر نامی تنظیم نے سامنے لایا۔
مذکورہ ٹرک کو قاضی گنڈ کے زیگ-لوئر مِندا لائیو اسٹاک چیک پوسٹ و قرنطینہ مرکز سے محکمہ پشو پالن کے ویٹرنری اسسٹنٹ سرجن نے کلیئرنس سرٹیفکیٹ جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا ہے کہ 2700 پرندے مکمل طور پر صحت مند ہیں، کوئی مردہ یا بیمار مرغی موجود نہیں۔
سرٹیفکیٹ میں یہ بھی درج ہے کہ کسی بھی متعدی بیماری کی علامات نہیں پائی گئیں اور تمام مرغیوں کو کشمیر میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔
تاہم چند گھنٹے بعد اے آر کے کے ڈائریکٹر داؤد محمد نے الچی باغ بند پر ٹرک کو مشکوک انداز میں خالی کرتے دیکھا۔
“جب ہم نے بیمار پرندوں کے بارے میں پوچھا تو ڈرائیور اور عملے نے انکار کیا اور سرٹیفکیٹ دکھایا۔ لیکن جیسے ہی ہم نے ٹرک کی جانچ کی، ہمیں درجنوں مردہ مرغیاں ملیں،” داؤد محمد نے بتایا۔
انہوں نے فوری طور پر فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ پشو پالن سے مداخلت کی درخواست کی۔
چیک پوسٹ انچارج اور لائیور فلو افسر ڈاکٹر محمد اشرف ڈار نے دعویٰ کیا کہ جب محکمہ نے چیک کیا، اُس وقت “کوئی اموات نہیں تھیں”۔
ان کے مطابق یہ کھیپ پلوامہ کے لیے تھی لیکن وہاں کے ڈیلر نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا، جس کے بعد ٹرک کو بٹہ مالو روانہ کیا گیا۔
تاخیر کی وجہ سے موت ہوئی ہوگی، “یہ فطری بات ہے”، انہوں نے کہا۔
بعد میں مردہ مرغیوں سے بھرا یہ ٹرک واپسی پر دوبارہ قاضی گند میں روکا گیا اور پوسٹ مارٹم کے لیے نمونے لیے گئے۔ ڈاکٹر ڈار کے بقول، مرغیاں “بھوک اور سردی” سے مر گئیں۔
سرٹیفکیٹ کی مزید جانچ نے معاملے کو مزید مشکوک بنا دیا، کیونکہ کھیپ کی رسید موجود نہیں تھی اور اُس کی اصل کا کوئی ریکارڈ نہیں — صرف “پنجاب” لکھا تھا۔
فوڈ سیفٹی ڈیپارٹمنٹ کی حالیہ ہدایات کے مطابق تمام ہائی رسک اشیا، بشمول پولٹری، پر ٹریس ایبلٹی مارکرز ہونا لازمی ہیں، جن میں بیچ اور لاٹ نمبر اور اصل فارم کے ویٹرنری سرٹیفکیٹ شامل ہوتے ہیں۔
لیکن اس کھیپ میں ان میں سے کوئی بھی تفصیل موجود نہیں تھی۔(گریٹر کشمیر)










