سرینگر، 07 دسمبر: پی ڈی پی صدر اور سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے اتوار کو کہا کہ دہلی میں جموں و کشمیر کے دو تعلیم یافتہ نوجوانوں سے متعلق حالیہ واقعہ نے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اب وقت آگیا ہے کہ حکومت براہِ راست کشمیری نوجوانوں سے بات کرے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پی ڈی پی نے نوجوانوں کے مسائل، دباؤ اور موجودہ چیلنجز کو سمجھنے کے لیے مسلسل مکالمے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے نوجوانوں کو ایک کھلے تبادلۂ خیال کے لیے مدعو کیا، جس میں پارٹی سے تعلق نہ رکھنے والے متعدد نوجوان بھی شامل ہوئے اور انہوں نے اپنی پریشانیاں اور تجاویز پیش کیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک نشست تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسی نوعیت کے پروگرام جموں و کشمیر کے تمام اضلاع میں منعقد کیے جائیں گے اور بعد میں دیگر ریاستوں میں بھی اس سلسلے کو آگے بڑھایا جائے گا۔
محبوبہ کے مطابق جموں و کشمیر کے نوجوان اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ریاست سے باہر ان کے ساتھ ناانصافی اور غلط برتاؤ ہوتا ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے بنیادی مسائل کا حل ایسا ہونا چاہیے جس سے یہاں کے لوگ باوقار، محفوظ اور باعزت زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے واجپائی اور مفتی محمد سعید کے درمیان طے شدہ امن روڈمیپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر علیحدگی نہیں چاہتا بلکہ ایسے ماحول کا خواہاں ہے جہاں یو اے پی اے، پی ایس اے جیسے سخت قوانین کا دباؤ نہ ہو۔
ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کا زخم گہرا ہے اور ان سے مفاہمت ضروری ہے۔ پی ڈی پی اس کوشش میں ایک پل کا کردار ادا کرے گی تاکہ جموں و کشمیر کے لوگوں اور باقی ملک کے درمیان اعتماد بڑھے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ نوجوانوں کے اٹھائے گئے سوالات دہلی تک پہنچ چکے ہیں، اور مرکز کو دہلی واقعے کے پسِ منظر کا سنجیدگی سے جائزہ لینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2019 کے بعد جموں و کشمیر کی صورتحال بدل گئی ہے اور اُس وقت جس ’’نارملسی‘‘ کا دعویٰ کیا گیا تھا، آج کی زمینی حقیقت اس کے برعکس ہے۔
محبوبہ مفتی نے اپیل کی کہ مرکز، بشمول این ایس اے، وزیر داخلہ اور وزیراعظم، 2019 کے بعد اپنائی گئی پالیسی پر نظرثانی کریں اور عوام کے ساتھ نئے سرے سے بات چیت اور مفاہمت کا عمل شروع کریں۔











