امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: جموں و کشمیر میں مجموعی طور پر موجود اور تصدیق شدہ25,293 وقف املاک میں سے 25,046 املاک کا چھ دسمبر تک یعنی ڈیڈلائن ختم ہونے تک UMEED پورٹل پر اپ لوڈ اور منظور کر لی گئی ہیں، جبکہ 31 املاک (کی درخواستوں) کو مسترد کیا گیا۔ 364 املاک کی تصدیق نہیں ہو سکی کیونکہ وہ یونین ٹیریٹری کی لائن آف کنٹرول (LoC) کے ممنوعہ علاقوں میں واقع ہیں۔
ملک بھر میں وقف املاک کی یہ ڈیجیٹل فہرست اس وقت شروع کی گئی جب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی مرکز میں زیر اقتدار حکومت نے ترمیم شدہ Unified Waqf Management, Empowerment, Efficiency and Development (UMEED) Act نافذ کیا، جس کے تحت 6 جون کو ایک مرکزی پورٹل کا اجراء بھی کیا گیا تھا۔
ملک بھر میں موجود اور رجسٹرڈ وقف املاک کو اپ لوڈ کرنے کے لیے چھ ماہ کی ڈیڈلائن 6 دسمبر کو ختم ہوئی، اور مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور، کرن رجیجو، نے ڈیڈلائن میں مزید توسیع سے انکار کر دیا ہے۔
جموں و کشمیر وقف بورڈ کے مطابق یونین ٹیریٹری کے 20 اضلاع سے منظور شدہ املاک کی تعداد 25,046 رہی۔ سرینگر ضلع نے سب سے زیادہ 3,311 املاک درج کیں، جبکہ سب سے کم یعنی 161 املاک کشتواڑ میں منظور ہوئیں۔
سرینگر شہر، جہاں درگاہ حضرت بل اور خانقاہ معلی جیسے اہم مذہبی مقامات ہیں، میں 3,311 املاک اپ لوڈ ہوئیں جن میں سے ایک مسترد ہوئی۔ جموں شہر میں 2,450 املاک درج کی گئیں، جن میں سے صرف ایک کو منظوری نہیں ملی۔
وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں 2,223 املاک کی تصدیق ہوئی اور سب منظور ہوئیں۔ راجوری میں 1,960 املاک درج کی گئیں، جن میں سے ایک منظور اور چار مسترد ہوئیں۔ اننت ناگ میں 1,917 املاک رجسٹر کی گئیں جم میں 1,897 منظور ہوئیں، ایک مسترد ہوئی اور 19 نئی اپ لوڈنگ کے لیے پراسیس کی گئیں۔ پلوامہ میں 1,765 املاک میں سے 1,707 منظور، آٹھ مسترد اور 50 نئی درج ہوئیں۔ گاندربل میں 1,108 املاک پراسیس کی گئیں جن میں 1,086 منظور، 13 مسترد اور نو از سر نو اپلوڈ شروع کی گئیں۔ کولگام میں 1,105 املاک میں سے 1,089 منظور ہوئیں اور 16 نئی درج ہوئیں۔
رام بن میں 846 املاک میں سے 838 منظور ہوئیں اور آٹھ نئی درج ہوئیں۔ ڈوڈہ میں 615 املاک میں سے 613 منظور اور دو مسترد ہوئیں۔ کٹھوعہ میں 588 املاک منظور ہوئیں۔ ریاسی میں 464 املاک کی تصدیق ہوئی اور سب منظور ہوئیں۔ شمالی کشمیر کے کپوارہ ضلع میں 462 املاک میں 444 منظور ہوئیں اور 18 نئی شروع کی گئیں۔
سانبہ ضلع میں 428 املاک درج اور منظور ہوئیں۔ شوپیاں میں سبھی پراپرٹیز پورٹل پر منظور ہوئیں۔ بانڈی پورہ میں 327 املاک میں سے288 منظور ہوئیں اور 39 نئی درج ہوئیں۔ ادھم پور میں 179 املاک میں سے 176 منظور اور دو نئی شروع ہوئیں۔ کشتواڑ میں 161 املاک میں سے 160 منظور اور ایک مسترد ہوئی۔
پونچھ میں 2,584 املاک اپ لوڈ ہوئیں، جن میں سے 2,481 (96.01فیصد) کی تصدیق اور منظور ہوئیں۔ یہ چونکہ سرحدی ضلع ہے اور لائن آف کنٹرولLoC پر ہے اس لئے 103 املاک ممنوعہ علاقوں میں ہیں، جن کی پورٹل پر رجسٹریشن نہیں ہوئی۔ بارہمولہ میں 2,669 املاک کی تصدیق ہوئی جن میں سے 2,408 (90.22فیصد) منظور ہوئیں، جبکہ اوڑی اور بونیار کی 261 املاک LoC کے ممنوعہ علاقوں میں واقع ہیں۔
وقف بورڈ کے سی ای او اور اسپیشل آفیسر اوقاف بشیر احمد بھٹ نے ای ٹی وی بھارت کو بتایا کہ جموں و کشمیر کی تمام املاک کا جائزہ، تصدیق اور اپ لوڈنگ مکمل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے تمام اضلاع میں یہ عمل پورا کیا ہے۔ پونچھ اور بارہمولہ میں کچھ املاک LoC کے اندر ہونے کی وجہ سے نقشے میں شامل نہیں ہو سکیں۔‘‘
مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور کے مطابق پورٹل پر 5,17,040 املاک کا عمل شروع ہوا، ان میں سے 2,16,905 منظور جبکہ 10,869 مسترد ہوئیں۔ ریاست اتر پردیش نے سب سے زیادہ 92,830 املاک درج کیں (86,345 سنی اور 6,485 شیعہ)، جس کے بعد مہاراشٹر نے 62,939، کرناٹک نے 58,328 اور مغربی بنگال نے 23,086 املاک درج کیں۔









