امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 11 دسمبر: جمؤں و کشمیر حکومت نے مارکیٹ میں مبینہ طور پر ملاوٹی انڈوں کی فروخت کے الزامات پر فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب ایک رکنِ اسمبلی نے انڈوں میں ممکنہ زہریلے اور سرطان کا سبب بننے والے مادوں کی موجودگی پر تشویش ظاہر کی، جس سے عوامی صحت سے متعلق خطرات کا اندیشہ پیدا ہوگیا۔
فوڈ، سول سپلائز اینڈ کنزیومر افیئرز کے وزیر کے دفتر سے جاری سرکاری بیان کے مطابق، یہ معاملہ جے کے لیجسلیٹو اسمبلی کے ایم ایل اے تنویر صادق کی جانب سے سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی معلومات کے بعد سامنے آیا۔ انہوں نے کچھ علاقوں میں مبینہ طور پر ملاوٹی انڈوں کی گردش کی نشاندہی کی تھی۔
وزیر کے دفتر کے مطابق، ایم ایل اے نے عوامی طور پر یہ خدشہ بھی ظاہر کیا تھا کہ ایسی ملاوٹ صارفین کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے، جس کے بعد حکومت نے فوری طور پر معاملے کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔
اس کے جواب میں وزیر برائے ایف سی ایس اینڈ سی اے نے کنٹرولر لیگل میٹرولوجی کو ہدایت دی ہے کہ وہ الزامات کی فوری جانچ پڑتال کریں۔ متعلقہ محکمے کو دو دن کے اندر تفصیلی رپورٹ وزیر کے سامنے پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کا مقصد یہ جاننا ہے کہ آیا واقعی ملاوٹی انڈے فروخت کیے جا رہے ہیں، اور اگر ایسا ہے تو ان کے ماخذ کا پتہ لگاکر عوامی صحت کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ (کے این ٹی )










