بہار میں آیوش پریکٹیشنرز کو تقرری نامے تقسیم کرنے کی ایک سرکاری تقریب اس وقت شدید تنازع کا شکار ہوگئی، جب وزیرِ اعلیٰ بہار نتیش کمار، جن کا تعلق جنتا دل یونائیٹڈ سے ہے، کی جانب سے ایک مسلم خاتون کے ساتھ نہایت نامناسب اور قابلِ اعتراض رویہ سامنے آیا۔واقع کی ویڈیو سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوئی جس میں صاف دیکھا جاسکتا ہے کہ تقریب کے دوران ایک مسلم خاتون، جو برقع اور حجاب میں ملبوس تھیں اور غالباً اپنا تقرری نامہ وصول کرنے کے لیے اسٹیج پر موجود تھیں، وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے ان کے چہرے سے حجاب ہٹانے کی کوشش کی۔ حیرت انگیز طور پر، نائب وزیرِ اعلیٰ جن کا تعلق بی جے پی سے ہے‘نے انہیں روکنے کی کوشش بھی کی، تاہم اس کے باوجود یہ عمل انجام پایا۔
یہ واقعہ نہ تو معمولی ہے اور نہ ہی اسے کسی غیر رسمی یا تجسس پر مبنی حرکت قرار دیا جا سکتا ہے۔ حجاب محض ملبوسات کا ایک ٹکڑا نہیں بلکہ ایک باخبر، باوقار اور رضاکارانہ مذہبی شناخت ہے۔ اس میں زبردستی مداخلت کھلی بے احترامی، احساسِ برتری اور امتیازی رویے کی عکاس ہے۔
تشویشناک پہلو یہ ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب نتیش کمار کے عوامی رویّے پر سوالات اٹھے ہوں۔ ماضی میں بھی ان کی متعدد ویڈیوز منظرِ عام پر آچکی ہیں، جن میں وہ غیر موزوں اور عجیب و غریب طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ آیا وہ اس وقت پوری ذہنی یکسوئی میں تھے؟ اور اگر نہیں، تو ایک اہم آئینی منصب پر فائز شخصیت کے طرزِ عمل کا احتساب کون کرے گا؟یہ بھی قابلِ غور امر ہے کہ اگر اسی نوعیت کا واقعہ کسی اور مذہبی یا سماجی طبقے کی خاتون کے ساتھ پیش آتا، تو ممکنہ طور پر فوری اور شدید ردِعمل سامنے آتا۔ پھر آج اس واقعے پر خاموشی کیوں؟
کیا مسلم خواتین کے وقار، مذہبی آزادی اور شخصی احترام کی کوئی قیمت نہیں؟یہ واقعہ محض ایک فرد کی توہین تک محدود نہیں بلکہ ایک پوری برادری کے مذہبی جذبات، شخصی آزادی اور انسانی وقار پر حملے کے مترادف ہے۔ وزیرِ اعلیٰ بہار نتیش کمار کو اس شرمناک واقعے پر بلا تاخیر عوامی معافی مانگنی چاہیے اور اس بات کی واضح یقین دہانی کرانی چاہیے کہ آئندہ کسی بھی خاتون کے مذہبی، ذاتی اور آئینی حقوق کی پامالی نہیں ہوگی۔
جمہوریت محض عہدوں سے نہیں، بلکہ رویّوں سے پہچانی جاتی ہے۔ اور اقتدار میں بیٹھے افراد سے سب سے پہلے احترام، شعور اور ذمہ داری کی توقع کی جاتی ہے۔