• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, جنوری ۲۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
ساس اور بہو

ساس اور بہو

شبیر احمد بٹ/شوپیان رحمت کالونی

by امت ڈیسک
19/12/2025
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ساس اور بہو کا رشتہ صدیوں سے موضوع بحث رہا ہے ۔سائنس کی ایجادات نے جہاں پوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا کے رکھ دیا یعنی تمام مسافتوں اور دوریوں کو ختم کرکے انھیں آسانیوں اور نزدیکیوں میں بدل دیا ۔اب یہ نزدیکیاں اور آسانیاں ہر در پہ دستک دیتی ہے مگر ساس اور بہو کے اس رشتے میں آج تک سائنس کی ان ایجادات کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔زمانے گزر گئے پر یہ جیسے ایک دوسرے کے انٹی ڈوٹ ( Anti dote) ہیں ۔دوریاں اور تلخیاں جوں کی توں ہے ۔کبھی ساس بہو کی سانس روک دیتی ہے تو کبھی بہو ساس کی سانسیں روکنے کی کوشش کرتی ہے اور یہ مقابلہ کبھی براہ راست لائیو شو کی طرح ہوتا ہے اور کبھی پردے کے پیچھے اس مقابلے کی تیاریاں ہوتی ہے اور اس مقابلے میں حصہ لینے والے دوسرے کردار بھی نسوانی ہی ہوتے ہیں ۔ غرض مقابلہ اکثر بیشتر عورتوں کے بیچ میں ہی ہوتا ہے اور مرد حضرات کو تھرڈ ایمپائر کی طرح کبھی کبھار ہی زحمت اٹھانا پڑتی ہے ۔مرد ، باپ ۔بیٹا ۔ بھائی ۔دیور ۔ شوہر اور سسر کے کردار نبھاتا ہے اور عورت ماں ۔بیٹی ۔بہن ۔نند ۔بیوی اور ساس کے کردار نبھاتی ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ مرد حضرات اکثر ناول کے اس کردار کی طرح ہوتے ہیں جو فلیٹ کہلاتے ہیں اور عورت اس کے برعکس پیچیدہ یعنی راونڈ کریکٹر کی طرح ہر موڈ پر بدل جاتی ہے ۔اور اس کی جیتی جاگتی مثالیں ساس اور بہو کے روپ میں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ساس بھی کبھی بہو تھی اور بہو بھی کبھی ساس ہوگی ۔ بہو بھی اپنے میکے میں نند ہوتی ہے اور ساس کی بیٹی بھی کسی گھر کی بہو ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس مسلٙم حقیقت سے عورت اکثر آنکھیں موند لیتی ہیں اور سینکڑوں مٙردوں کا مسکرانا بھلا دیتی ہے ۔ساس اور بہو کی اس رسا کشی میں کئی بے گناہ شوہر اور بیٹے شرافت کے بدلے شر اور آفت کا مرکب بن جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اتنا ہی نہیں بلکہ کبھی کبھی تو یہ رساکشی بھیانک واردات اور دلدوز سانحات کی صورت میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔جب تحقیقات ہوتی ہے .پردے اٹھتے ہیں تو یہ بات سامنے آجاتی ہیں کہ اس کے پیچھے تو عورت ہی ۔۔۔۔۔۔۔ فاعل بھی عورت اور مفعول بھی عورت ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ظالم اور مظلوم دونوں عورت۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

بہار کے وزیر اعلیٰ کی شرمناک حرکت!

Next Post

سابق اے آئی پی امیدوار انور جان پر اننت ناگ میں پی ایس اے نافذ

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

نسائی شاعری کا ارتقا

کزنز زندگی کے خاموش محافظ….

16/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

والدین کی قربانیوں کی کوئی انتہا نہیں

16/01/2026
احساس و ہمدردی سے عاری لوگ

داستانِ عہدِ رفتہ: جب مٹی سونا تھی….​چند یادیں بیتے دنوں کی

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

کشمیر کی سڑکیں موت کی آماجگاہ

09/01/2026
ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

ہماری معاشرت میں اقدار کا زوال

03/01/2026
حوصلہ شکنی کے بجاۓ حوصلہ افزائی کیجئے ہر شخص جینے کا حق رکھتا ہے۔۔۔!‎

والدین کے ساتھ بد سلوکی تربیت میں کمی یا فرمان برداری کا زوال۔۔۔۔۔!‎

03/01/2026
Next Post
سابق اے آئی پی امیدوار انور جان پر اننت ناگ میں پی ایس اے نافذ

سابق اے آئی پی امیدوار انور جان پر اننت ناگ میں پی ایس اے نافذ

گری راج سنگھ جیسے رہنما بھارت کو ’کورَو راج‘ بنانا چاہتے ہیں: محبوبہ مفتی

بارہمولہ لینڈ سلائیڈ: پولیس نے کیا کیس درج

بارہمولہ لینڈ سلائیڈ: پولیس نے کیا کیس درج

جی ایم سی ہندواڑہ میں جونیئر ڈاکٹر معطل، مریض کو ٹرالی پر لے جانے کی ویڈیو وائرل

خانپورہ میں پہاڑی ڈھلوان کھسکنے کے بعد غیر قانونی پتھر نکالنے کی پولیس تحقیقات

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »