ساس اور بہو کا رشتہ صدیوں سے موضوع بحث رہا ہے ۔سائنس کی ایجادات نے جہاں پوری دنیا کو ایک گلوبل ولیج بنا کے رکھ دیا یعنی تمام مسافتوں اور دوریوں کو ختم کرکے انھیں آسانیوں اور نزدیکیوں میں بدل دیا ۔اب یہ نزدیکیاں اور آسانیاں ہر در پہ دستک دیتی ہے مگر ساس اور بہو کے اس رشتے میں آج تک سائنس کی ان ایجادات کا کوئی اثر دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔زمانے گزر گئے پر یہ جیسے ایک دوسرے کے انٹی ڈوٹ ( Anti dote) ہیں ۔دوریاں اور تلخیاں جوں کی توں ہے ۔کبھی ساس بہو کی سانس روک دیتی ہے تو کبھی بہو ساس کی سانسیں روکنے کی کوشش کرتی ہے اور یہ مقابلہ کبھی براہ راست لائیو شو کی طرح ہوتا ہے اور کبھی پردے کے پیچھے اس مقابلے کی تیاریاں ہوتی ہے اور اس مقابلے میں حصہ لینے والے دوسرے کردار بھی نسوانی ہی ہوتے ہیں ۔ غرض مقابلہ اکثر بیشتر عورتوں کے بیچ میں ہی ہوتا ہے اور مرد حضرات کو تھرڈ ایمپائر کی طرح کبھی کبھار ہی زحمت اٹھانا پڑتی ہے ۔مرد ، باپ ۔بیٹا ۔ بھائی ۔دیور ۔ شوہر اور سسر کے کردار نبھاتا ہے اور عورت ماں ۔بیٹی ۔بہن ۔نند ۔بیوی اور ساس کے کردار نبھاتی ہے مگر تاریخ گواہ ہے کہ مرد حضرات اکثر ناول کے اس کردار کی طرح ہوتے ہیں جو فلیٹ کہلاتے ہیں اور عورت اس کے برعکس پیچیدہ یعنی راونڈ کریکٹر کی طرح ہر موڈ پر بدل جاتی ہے ۔اور اس کی جیتی جاگتی مثالیں ساس اور بہو کے روپ میں دیکھنے کو ملتی ہیں ۔ساس بھی کبھی بہو تھی اور بہو بھی کبھی ساس ہوگی ۔ بہو بھی اپنے میکے میں نند ہوتی ہے اور ساس کی بیٹی بھی کسی گھر کی بہو ہوتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس مسلٙم حقیقت سے عورت اکثر آنکھیں موند لیتی ہیں اور سینکڑوں مٙردوں کا مسکرانا بھلا دیتی ہے ۔ساس اور بہو کی اس رسا کشی میں کئی بے گناہ شوہر اور بیٹے شرافت کے بدلے شر اور آفت کا مرکب بن جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنا ہی نہیں بلکہ کبھی کبھی تو یہ رساکشی بھیانک واردات اور دلدوز سانحات کی صورت میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔جب تحقیقات ہوتی ہے .پردے اٹھتے ہیں تو یہ بات سامنے آجاتی ہیں کہ اس کے پیچھے تو عورت ہی ۔۔۔۔۔۔۔ فاعل بھی عورت اور مفعول بھی عورت ۔۔۔۔۔۔۔ یعنی ظالم اور مظلوم دونوں عورت۔۔۔۔۔۔۔۔۔






