امت نیوز ڈیسک //
نئی دہلی، پیر: بنگلہ دیش ہائی کمیشن نے “ناگزیر حالات” کے باعث نئی دہلی اور اگرتلہ میں اپنی تمام قونصلر اور ویزا خدمات تاحکمِ ثانی معطل کر دی ہیں۔ پیر کو جاری نوٹس میں کہا گیا کہ اس فیصلے سے ہونے والی کسی بھی زحمت پر معذرت خواہ ہیں۔
ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق، بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے پیر کی شام معطلی کی تصدیق کی۔ دی ٹیلی گراف آن لائن کے ذرائع کے مطابق ہائی کمیشن کی عمارت پر اس حوالے سے باضابطہ نوٹس بھی آویزاں کیا گیا ہے۔
یہ اقدام ہائی کمیشن کے باہر سکیورٹی کی صورتحال میں اضافے کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جہاں پیر کو وشو ہندو پریشد (VHP) اور بجرنگ دل کے کارکنان نے بنگلہ دیش میں ایک ہندو نوجوان کے قتل کے خلاف احتجاج کی کال دی تھی۔ ممکنہ امن و امان کے مسائل سے نمٹنے کے لیے سفارتی علاقے میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔
یہ احتجاج بنگلہ دیش کے ضلع میمن سنگھ میں 25 سالہ ہندو گارمنٹس ورکر دیپو چندر داس کے قتل کے ردِعمل میں کیا گیا۔ پولیس کے مطابق 18 دسمبر کو توہینِ مذہب کی افواہوں پر پہلے فیکٹری کے باہر تشدد کیا گیا، بعد ازاں ایک درخت سے لٹکا کر قتل کر دیا گیا۔ لاش کو ڈھاکہ–میمن سنگھ ہائی وے کے قریب چھوڑ کر آگ بھی لگا دی گئی۔ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے میمن سنگھ میڈیکل کالج منتقل کیا گیا۔ مقتول کے بھائی اپو چندر داس نے بھالکا پولیس اسٹیشن میں 140 سے 150 نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرایا ہے۔
اتوار کو بھارت نے اس واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے “ہولناک” قرار دیا۔ وزارتِ خارجہ (MEA) نے کہا کہ نئی دہلی نے ڈھاکہ کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے اور ذمہ داروں کی فوری شناخت اور سزا کا مطالبہ کیا ہے۔ ایم ای اے کے مطابق بھارت بنگلہ دیش میں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ایم ای اے نے بنگلہ دیشی میڈیا کے بعض حصوں میں احتجاج کو پرتشدد قرار دینے کی رپورٹس کو “گمراہ کن پروپیگنڈا” کہا۔ ترجمان رندھیر جیسوال کے مطابق صرف ایک چھوٹا سا گروپ جمع ہوا تھا، نہ باڑ توڑنے کی کوشش ہوئی اور نہ ہی کوئی سکیورٹی صورتحال بنی؛ پولیس نے چند منٹوں میں مجمع منتشر کر دیا۔
چند گھنٹوں بعد بنگلہ دیش کی وزارتِ خارجہ نے بیان جاری کرتے ہوئے 20 دسمبر کو نئی دہلی میں ہائی کمیشن کی رہائش کے باہر پیش آنے والے واقعے کو “انتہائی افسوسناک” قرار دیا اور کہا کہ مظاہرین کو ہائی کمیشن کے احاطے کے عین باہر سرگرمیوں کی اجازت دی گئی جس سے اندر موجود عملے میں خوف و ہراس پھیلا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ منظم احتجاج کی پیشگی اطلاع فراہم نہیں کی گئی تھی، تاہم بھارت کی حکومت کی جانب سے بنگلہ دیشی سفارتی مشنز کی حفاظت کے عزم کا خیرمقدم کیا گیا۔
ادھر بنگلہ دیشی حکام نے کیس میں گرفتاریاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔ دی ڈیلی اسٹار کے مطابق اتوار کو مزید دو افراد کی گرفتاری کے بعد مجموعی تعداد 17 ہو گئی ہے۔










