امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، 22 دسمبر : کشمیر یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان نے ایک سینئر یونیورسٹی ملازم کے خلاف مبینہ توہین آمیز پیغام کے واٹس ایپ پر پھیلاؤ کے معاملے میں پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کیے جانے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے شعبہ کشمیری کے ایک اسسٹنٹ پروفیسر کو معطل کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں لائی گئی جب ایس پی حضرت بل کی جانب سے وائس چانسلر کو ایک باضابطہ مراسلہ موصول ہوا، جس میں کیس کے اندراج اور تفتیش کی تفصیلات فراہم کی گئیں۔
تفصیلات کے مطابق واٹس ایپ پر ایک پیغام گردش کر رہا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کشمیر یونیورسٹی کے ایک سینئر ملازم کو ان کی اہلیہ نے ایک خاتون ساتھی کے ساتھ مبینہ قربت کے باعث تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس توہین آمیز پیغام کے پھیلاؤ اور یونیورسٹی کی ساکھ پر اس کے ممکنہ منفی اثرات کے پیش نظر وائس چانسلر نے پولیس اسٹیشن نگین سے رجوع کرتے ہوئے پیغام کے ماخذ کی جانچ کی درخواست کی۔
پولیس کی تفصیلی تحقیقات کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ پیغام شعبہ کشمیری کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر الطاف احمد گنائی، جو قلمی نام شفقت الطاف سے بھی جانے جاتے ہیں، نے ارسال کیا تھا۔ تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ ڈاکٹر گنائی نے یہ پیغام ڈگری کالج اننت ناگ کے اسسٹنٹ پروفیسر فاروق احمد ملک کے موبائل فون کا استعمال کرتے ہوئے اور وی پی این کے ذریعے پھیلایا۔
ذرائع کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران ڈاکٹر گنائی نے اعتراف کیا کہ انہوں نے ملک کا فون استعمال کیا تھا، جبکہ فاروق احمد ملک نے پولیس کو بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کا موبائل اس طرح کے عمل کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کے باوجود پولیس نے دونوں اساتذہ کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔
کشمیر نیوز ٹرسٹ سے بات کرتے ہوئے ایک فیکلٹی رکن نے کہا کہ یہ اقدام ایک اہم انتظامی عہدے پر فائز سینئر ملازم کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی دانستہ کوشش معلوم ہوتی ہے۔
پولیس کی رپورٹ موصول ہونے کے فوراً بعد وائس چانسلر پروفیسر نیلوفر خان نے ڈاکٹر الطاف احمد گنائی کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے۔ حکم نامہ نمبر 1931-JK(GAD) 2025 مورخہ 22 دسمبر کے تحت یہ معطلی یونیورسٹی اسٹیچوٹ 3.16 (2) اور ریگولیشن 12 (3) (IV) کے تحت عمل میں لائی گئی۔ معطلی کی مدت کے دوران ڈاکٹر گنائی کو دفترِ ڈین ریسرچ کے ساتھ منسلک رکھا جائے گا۔ یہ حکم نامہ ڈپٹی رجسٹرار ایڈمنسٹریشن کی جانب سے جاری کر کے متعلقہ دفاتر کو ارسال کیا گیا۔
حکام نے بتایا کہ دونوں اسسٹنٹ پروفیسرز کے خلاف انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی پانچ دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ معاملے کے تعلیمی اور انتظامی پہلوؤں کا جائزہ لینے اور آئندہ کارروائی طے کرنے کے لیے سات رکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔
ایک انتظامی افسر نے تصدیق کی کہ مجرمانہ الزامات سے متعلق معاملات میں معطلی کا یہ اقدام طے شدہ ضابطہ کار کے عین مطابق ہے۔ [کے این ٹی]










