امت نیوز ڈیسک //
خانساحب، 27 دسمبر : رکنِ پارلیمنٹ آغا روح اللہ مہدی نے ہفتہ کے روز حکومت کے نمائندوں کو دعوت دی کہ اگر منتخب حکومت یہ دعویٰ کرتی ہے کہ ریزرویشن کا معاملہ مکمل طور پر لیفٹیننٹ گورنر کے دائرۂ اختیار میں ہے، تو وہ ان کے ساتھ مل کر اس کے خلاف احتجاج میں شامل ہوں، جسے انہوں نے ’وائسرائے‘ قرار دیا۔
بڈگام ضلع کے خانصاحب میں عوامی دربار کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ کو تنہا محسوس نہیں ہونے دیں گے اور ان کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ریزرویشن معاملے میں اس کا کوئی کردار نہیں اور فائل صرف لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہے، تو وہ خود بھی ’وائسرائے‘ کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے تیار ہیں۔
روح اللہ مہدی نے کہا کہ احتجاج کی جگہ کا فیصلہ طلبہ خود کریں گے اور جہاں بھی وہ دھرنا دیں گے، وہ وہیں ان کے ساتھ شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا حکومت سے سادہ مطالبہ ہے کہ وہ طلبہ سے بات چیت کرے اور ریزرویشن سے متعلق زیرِ التوا فیصلے پر انہیں اعتماد میں لے۔
انہوں نے حکام سے اپیل کی کہ طلبہ کو اب تک کیے گئے فیصلوں اور فائل کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کچھ امور رازداری کے حلف کے تحت آتے ہیں تو ان کی تفصیل نہ بھی بتائی جائے، تاہم طلبہ کو کم از کم پیش رفت سے ضرور آگاہ کیا جانا چاہیے۔
مسلسل نوٹیفکیشنز اور تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ اس صورتحال نے طلبہ میں شدید مایوسی پیدا کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت ان سے بات تک نہیں کر سکتی تو وہ یقینی بنائیں گے کہ طلبہ تنہا نہ رہیں اور ان کی احتجاجی تحریک کی بھرپور حمایت کریں گے۔
آغا روح اللہ نے کہا کہ حکام کے پاس ابھی چند گھنٹے باقی ہیں کہ وہ ہمدردی کا مظاہرہ کریں۔ اگر حکومت کو ذرا سا بھی طلبہ کا احساس ہے تو انہیں بات چیت کے لیے بلایا جائے، معاملے کی موجودہ حیثیت واضح کی جائے اور بتایا جائے کہ اب تک کون سے اقدامات کیے گئے ہیں۔










