امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 31 دسمبر: جموں و کشمیر کے وزیر زراعت جاوید احمد ڈار نے بدھ کے روز واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے ریٹائرڈ ملازمین کی دوبارہ تقرری کے لیے کوئی عمومی یا جامع پالیسی موجود نہیں ہے، اور ایسی توسیع صرف غیر معمولی حالات میں دی جا سکتی ہے، جہاں مخصوص مہارت کی اشد ضرورت ہو۔
سرینگر میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے، خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز آبزرور کے مطابق، وزیر نے کہا کہ فی الحال کسی بھی ریٹائرڈ ملازم کو دوبارہ تقرری نہیں دی گئی ہے۔
ان کے یہ بیانات بعض محکموں میں ریٹائرڈ افسران کی مبینہ دوبارہ تقرری پر بڑھتی تنقید کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا،“یہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے۔ صرف انہی غیر معمولی معاملات میں، جہاں مہارت ناگزیر ہو یا محکمہ جاتی بہتری مطلوب ہو، دوبارہ تقرری پر غور کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس وقت تک ایسی کوئی توسیع نہیں دی گئی ہے۔”
وزیر زراعت نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت ادارہ جاتی مضبوطی، کارکردگی اور شفافیت پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے اور دوبارہ تقرری کو معمول کی پالیسی کے طور پر اختیار نہیں کیا جائے گا۔
جاوید احمد ڈار نے مزید کہا کہ زراعت میں اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور اسے ایک سال کی بنیاد پر نہیں پرکھا جا سکتا۔ انہوں نے جدید کاری، ڈیٹا پر مبنی منصوبہ بندی اور مستقل پالیسی اصلاحات کو زرعی و ملحقہ شعبوں کی مضبوطی کے لیے ضروری قرار دیا۔
سیب کے کاشتکاروں کو ہونے والے نقصانات سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر نے کہا کہ روایتی باغبانی سے ہٹ کر ہائی ڈینسٹی سیب باغات کی طرف منتقلی بہتر پیداوار اور جلد منافع کے لیے ضروری ہے، تاہم انہوں نے وادی میں غیر معیاری پودوں کی آمد سے متعلق مسائل کو بھی تسلیم کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی جانچ کے لیے ڈائریکٹر ہارٹیکلچر کشمیر کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
وزیر نے کہا“رپورٹ موصول ہونے کے بعد اصلاحی اقدامات کیے جائیں گے۔ حکومت مرکزی وزارت زراعت کے طے شدہ اصولوں کے مطابق ایس او پیز اور صحت کے معائنے پر عمل کر رہی ہے،”










