امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 31 دسمبر 2025: جموں و کشمیر کی سب سے بڑی دینی تنظیم، متحدہ مجلسِ علماء (ایم ایم یو) نے بعض سرکاری محکموں کی جانب سے ’’وندے ماترم‘‘ کے عنوان سے سنگنگ مقابلے کی تشہیری مہم اور اس کی مقامی اخبارات میں اشاعت پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ایم ایم یو نے وضاحت کی ہے کہ ایسے نغمات اور اظہارات جن میں غیر اسلامی عقائد سے جڑی عبادتی اور مذہبی معنویت پائی جاتی ہو، اسلامی توحیدی عقیدے کے ماننے والوں کے لیے سنگین شرعی اعتراضات کو جنم دیتے ہیں۔ اسلام مذہبی اظہارات کے حوالے سے واضح حدود مقرر کرتا ہے اور کسی بھی ایسی سرگرمی میں شرکت کی اجازت نہیں دیتا جس میں کسی مخلوق کی علامتی یا لفظی تقدیس یا الوہیت کا پہلو پایا جائے۔
اس مسلمہ دینی موقف کی روشنی میں، ایم ایم یو نے ان تمام افراد کو، جن کی مذہبی ضمیر اسلامی تعلیمات سے رہنمائی پاتی ہے، باادب انداز میں ایسی تقریبات میں شرکت سے اجتناب کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
تنظیم نے مقامی اخبارات کی جانب سے اس نوعیت کے تشہیری مواد کی اشاعت اور ترویج پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ جموں و کشمیر جیسے خطے—جو تاریخی طور پر مذہبی حساسیت اور ضمیر کے احترام کے لیے جانا جاتا ہے—میں میڈیا کو زیادہ احتیاط اور حساسیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔
ایم ایم یو نے اس بات پر زور دیا کہ مذہبی عقیدے اور ضمیر کا احترام سماجی ہم آہنگی اور باہمی بقائے باہمی کے لیے ناگزیر ہے، اور تمام متعلقہ اداروں سے اپیل کی کہ عوامی ابلاغ اور تشہیری سرگرمیوں میں ثقافتی و مذہبی حساسیت کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔








