امت نیوز ڈیسک //
سرینگر : پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) صدر اور جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ جمہوریت کی بحالی کے نام پر مختلف ممالک پر حملے کرکے قدرتی وسائل کا استحصال کرتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے ایرانی عوام سے یک جُٹ ہوکر امریکہ اور اسرائیل کی چال کو ناکام بنانے کا مشورہ دیا وہیں انہوں نے ایرانی حکومت سے بھی عوامی شکایات کا ازالہ کرنے کی وکالت کی۔
محبوبہ مفتی سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران (ای ٹی وی بھارت)
سرینگر میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ ’’امریکہ کا یہ ایک مستقل طریقہ کار بن چکا ہے کہ وہ دنیا کے مختلف خطوں میں جمہوری تبدیلی کے بہانے سے فوجی مداخلت کرتا ہے، خواتین کے حقوق بحال کرنے جیسے بہانے بنا کر ملکوں کو تباہ کر دیتا ہے لیکن اصل مقصد ان ممالک کے وسائل پر قبضہ جمانا ہوتا ہے۔‘‘
محبوبہ کو ’’یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ لوگ امریکہ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔‘‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’’ایسے احتجاج بھارت بھر میں ہونے چاہئیں تھے۔‘‘ محبوبہ مفتی نے کہا: ’’ایران تاریخی طور پر بھارت کا ایک اچھا دوست رہا ہے، لیکن بی جے پی کی پالیسیوں کے باعث حالیہ برسوں میں صورتحال بدل گئی ہے۔‘‘
انہوں نے خبردار کیا کہ ’’اگر ایران کے لوگ اپنی صورتحال کو نہیں سمجھتے تو ان کے حالات شام سے بھی بدتر ہو سکتے ہیں۔‘‘ اور بیرونی مداخلت کے خلاف بھی تنبیہ کی، جو ان کے بقول ’’ممالک کو غیر مستحکم کرنے کا سبب بنتی ہے۔’’
پی ڈی پی سربراہ نے مزید الزام عائد کیا کہ ’’امریکہ اور اسرائیل مسلم مخالف ممالک ہیں‘‘ اور کہا کہ ’’امریکہ کا اصل مقصد حکومتوں کی تبدیلی کے نام پر وسائل کا استحصال کرنا ہے۔‘‘
حالیہ مظاہروں پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ انہیں ’’خوشی ہے کہ کشمیر کے لوگ ایران کی حمایت میں ہیں‘‘ اور ’’عالمی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں۔‘‘










