امت نیوز ڈیسک //
جموں : جموں و کشمیر حکومت نے بدھ کے روز قانون ساز اسمبلی میں پیش کیے گئے تفصیلی سرکاری اعداد و شمار میں ریزرو زمرہ جات (Reserve Categories) کے سرٹیفکیٹس کے اجرا میں یوٹی کے دونوں خطوں – صوبہ جموں اور کشمیر وادی – کے درمیان نمایاں فرق کو اجاگر کیا۔ سرحدی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو پانچ مرلہ زمین دینے سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کیا گیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ یونین ٹیریٹری میں 12 لاکھ سے زائد اسمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں۔
پیپلز کانفرنس کے صدر اور ہندوارہ سے منتخب رکن اسمبلی سجاد غنی لون کی جانب سے پیش کی گئی ’’کٹ موشن‘‘ کے جواب میں حکومت نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ریزرو آبادی کے ساتوں زمروں میں جموں اور کشمیر کے درمیان واضح تفاوت پایا جاتا ہے۔ شیڈولڈ ٹرائب زمرے میں جاری کردہ 7,49,970 سرٹیفکیٹس میں سے6,93,781 جموں جبکہ صرف 56,189 کشمیر میں جاری کیے گئے۔ اس طرح جموں کا حصہ 92.5 فیصد اور کشمیر کا 7.4 فیصد بنتا ہے۔
شیڈولڈ کاسٹ (SC) زمرے میں یہ فرق مزید نمایاں ہے مجموعی طور پر جاری کیے گئے 1,41,419 سرٹیفکیٹس میں سے 1,39,664 جموں جبکہ محض 1,755 کشمیر میں جاری ہوئے یعنی 98 فیصد سے زائد سرٹیفکیٹس جموں خطے میں اور صرف 1.24 فیصد کشمیر میں دیے گئے۔ ریزروڈ بیک ورڈ ایریا(RBA) زمرے میں نسبتاً توازن دیکھا گیا جہاں 1,00,848 سرٹیفکیٹس میں سے 50,982 جموں (50.5 فیصد) اور 49,866 کشمیر (49.4 فیصد) میں جاری کیے گئے۔
لائن آف ایکچول کنٹرول (LaC) زمرے کے تحت جاری7,192 سرٹیفکیٹس میں سے6,732جموں(93.6 فیصد)اور460 کشمیر(6.3 فیصد)میں جاری ہوئے۔ انٹرنیشنل بارڈر زمرے کے تمام 6,732سرٹیفکیٹس صرف جموں خطے میں جاری کیے گئے۔
او بی سی (OBC) زمرے میں جموں کا حصہ59.8فیصد جبکہ کشمیر کا40.2فیصد رہا اس زمرے میں جموں میں78,324 اور کشمیر میں52,652سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے۔
پانچ مرلہ زمین
اسی دوران اسمبلی میں اسی طرح کے ایک اور سوال کے جواب میں حکومت نے کہا کہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے افراد کو محفوظ مقامات پر پانچ مرلہ زمین فراہم کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ یہ وضاحت ایم ایل اے ڈاکٹر راجیو کمار بھگت کے سوال کے جواب میں وزیر انچارج محکمہ مال نے پیش کی۔
اسمارٹ میٹرز
ایم ایل اے وحید الرحمن پرہ کے سوال کے جواب میں حکومت نے ایوان کو بتایا کہ جموں و کشمیر میں مختلف بجلی شعبہ جاتی اسکیموں کے تحت اب تک 12,36,507 اسمارٹ میٹر نصب کیے جا چکے ہیں ان میں جموں پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ نے جموں ڈویژن کے دس اضلاع میں 6,27,492 میٹر نصب کیے، جن میں ضلع جموں (3,04,468)سانبہ(58,707)ادھم پور (57,320)ڈوڈہ(22,591)کٹھوعہ(39,237)کشتواڑ (8,742)پونچھ (24,902) رام بن(24,870)ریاسی (25,674)اور راجوری(60,981) شامل ہیں۔
اسی طرح کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ نے کشمیر ڈویژن میں 6,09,015 میٹر نصب کیے جن میں سرینگر(2,39,147)بڈگام (37,009)گاندربل (15,427)بانڈی پورہ (33,728)بارہمولہ(87,732)کپواڑہ (24,839)پلوامہ (50,322)، شوپیان (18,272)اننت ناگ (77,943) اور کولگام (24,596) شامل ہیں۔
اس کے علاوہ جموں خطے کے دس اضلاع میں 11 کے وی فیڈرز پر 1,600 اسمارٹ فیڈر میٹر بھی نصب کیے گئے ہیں۔ پی ایم ڈی پی اور آر ڈی ایس ایس اسکیموں کے تحت اسمارٹ میٹرنگ منصوبے کے نفاذ کے لیے وزارت بجلی نے RECPDCL کو پروجیکٹ امپلیمنٹیشن ایجنسی کو نامزد کیا ہے۔ جموں ڈویژن میں ٹیکنو الیکٹرک لمیٹڈ، اینول کیبلز اور جینس پاور سولیوشنز لمیٹڈ جبکہ کشمیر صوبے میں ٹیکنو الیکٹرک اینڈ انجینئرنگ کمپنی لمیٹڈ اور اینول کیبلز پرائیویٹ لمیٹڈ سمیت دیگر کمپنیاں اس منصوبے پر کام کر رہی ہیں۔
حکومت نے بتایا کہ جموں و کشمیر میں نصب کیے جا رہے اسمارٹ میٹر بیورو آف انڈین اسٹینڈرڈز اور سنٹرل الیکٹرسٹی اتھارٹی کے مقررہ تکنیکی معیارات کے مطابق ہیں اور یہ ملک بھر میں رائج یکساں معیار کے تحت نصب کیے جا رہے ہیں۔






