• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعرات, مارچ ۱۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
khamnie

آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت: کیا حالات تیسری جنگِ عظیم کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

رضوان سلطان

by امت ڈیسک
07/03/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے سنیچر کی صبح فضائی حملے میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کر دیا۔ ایران کی جانب سے اتوار کی علی الصبح اس خبر کا اعلان کیا گیا۔ ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے۔

ایرانی ٹیلی ویژن پر جب اس خبر کا اعلان کیا گیا تو خبر پڑھنے والا براڈکاسٹر جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور آنسوؤں کے ساتھ قوم کو یہ اطلاع دی۔ ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی کے مطابق حملہ تہران میں واقع اس کمپاؤنڈ پر کیا گیا جہاں آیت اللہ خامنہ ای اپنے سرکاری فرائض انجام دے رہے تھے۔ حملے کے وقت وہ اپنے دفتر میں موجود تھے اور وہیں شہید ہوگئے۔
سرکاری نشریات کے دوران اعلان کیا گیا: ”انتہائی دکھ اور غم کے ساتھ قوم کو اطلاع دی جاتی ہے کہ انقلابِ اسلامی کے رہبر آیت اللہ سید علی خامنہ ای دشمن کے حملے میں شہادت کے درجے پر فائز ہوگئے ہیں۔“

ان حملوں کے دوران ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ایک اور فضائی حملے میں ایران کے چیف آف آرمی اسٹاف اور وزیرِ دفاع بھی مارے گئے۔ رپورٹ کے مطابق یہ حملہ ایران کی دفاعی کونسل کے ایک اہم اجلاس کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جہاں ملک کی اعلیٰ عسکری قیادت موجود تھی۔ اس حملے میں ایران کے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عبدالرحیم موسوی اور وزیرِ دفاع جنرل عزیز نصیرزادہ جاں بحق ہو گئے، جبکہ سپریم لیڈر کے مشیر علی شمخانی بھی مارے گئے۔

دوسری جانب آیت اللہ علی خامنہ ای کی اہلیہ، بیٹی، داماد اور پوتا بھی اس حملے میں مارے گئے، جبکہ ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ رہے۔

امریکہ کی جانب سے اس کارروائی کے بعد اگرچہ یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ ایران خاموش رہے گا اور جوابی کارروائی میں وقت لگے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر سامنے آتے ہی ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا اور اس وقت صورتحال نہایت نازک دکھائی دے رہی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے یہ حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور جمعرات (5 مارچ) کو ویانا میں مذاکرات کے چوتھے دور کا انعقاد ہونا تھا۔ تاہم ایک بار پھر گزشتہ برسوں کی طرح مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کیا گیا۔

اس بار کا حملہ معمولی نہیں تھا بلکہ ایک ملک کے سربراہ کو نشانہ بنایا گیا، جسے ایران پہلے ہی سرخ لکیر قرار دے چکا تھا۔ ایران کی جانب سے امریکہ کو واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ وہ بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اگر حملہ کیا گیا تو مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اب تقریباً ویسی ہی صورتحال سامنے آ رہی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس جنگ میں ایک نیا ملک شامل ہوتا نظر آ رہا ہے۔اس وقت ایران کے حملے سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور اردن میں موجود امریکی اڈوں اور سفارتخانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔اس کے بعد امریکہ کی جانب سے اپنے شہریوں کو ان ممالک کو چھوڑنے کی اپیل کی گئی، جبکہ سعودی عرب، کویت اور لبنان میں بعض سفارتخانوں کو عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔

امریکی سفری ہدایت میں ایران، اسرائیل، سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ بحرین، مصر، عراق، اردن، کویت، لبنان، عمان، شام، یمن اور فلسطینی علاقے بھی شامل ہیں، جہاں سے امریکی شہریوں کو نکلنے کا کہا گیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بحرین، عراق، اردن، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں تعینات غیر ضروری عملے اور ان کے خاندانوں کو بھی وہاں سے انخلا کا حکم دیا ہے۔

دوسری طرف ایران کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ وہ کسی پڑوسی ملک کو نشانہ نہیں بنا رہا بلکہ صرف امریکی ٹھکانوں کو ہدف بنا رہا ہے۔

ان حملوں کے دوران مسلم ممالک اور خاص طور پر عرب ممالک کی خاموشی پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد کسی بھی عرب ملک نے ایران کے ساتھ کھل کر اظہارِ یکجہتی نہیں کیا اور نہ ہی امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی کھل کر مذمت کی گئی۔

اس کے برعکس ایران کی جانب سے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے پر خود ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ایکس پر ایک پوسٹ میں واضح کیا کہ ایران کے پاس امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا جواب دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

ایک طرف جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا رجیم چینج کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا، وہیں دوسری طرف سی این این کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی خفیہ ادارہ سی آئی اے ایرانی کرد مسلح گروہوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہا ہے تاکہ ایران میں حکومت کے خلاف بغاوت کو ہوا دی جا سکے۔رپورٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ ایرانی اپوزیشن گروپوں اور عراقی کرد رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ انہیں فوجی مدد فراہم کرنے کے امکانات پر بات چیت کی جا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ ایرانی کرد مسلح گروہوں کے ہزاروں جنگجو عراق اور ایران کی سرحد کے قریب، خاص طور پر عراقی کردستان کے علاقے میں سرگرم ہیں۔آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے باوجود ٹرمپ ایران میں رجیم چینج کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور اب وہ ان مسلح گروپوں کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ میں بھی ٹرمپ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ ڈیموکریٹک رہنما سوال اٹھا رہے ہیں کہ اس جنگ سے امریکہ کو کیا حاصل ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق ڈیموکریٹس کانگریس میں ایسی قرارداد لانے پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت امریکی صدر کو کسی بھی ملک پر حملہ کرنے سے پہلے کانگریس کی منظوری لینا ہوگی۔

ادھر اس جاری جنگ میں اب تک ایران میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 180 اسکولی طالبات بھی شامل ہیں، جو ایک اسکول پر بمباری کے نتیجے میں جان کی بازی ہار گئیں۔دوسری طرف ایران نے امریکہ کے ساتھ مزید مذاکرات سے صاف انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ موجودہ حالات میں امریکہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ایران نے ایک بڑا قدم اٹھاتے ہوئے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ عمان اور ایران کے درمیان واقع اس سمندری راستے سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے اس راستے پر مکمل کنٹرول کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ایران نے کہا ہے کہ وہ صرف چینی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دے گا۔ رپورٹس کے مطابق ایران نے اس اقدام کو بیجنگ کی حمایت کے اعتراف کے طور پر پیش کیا ہے۔

اسی دوران امریکہ نے بحرِ ہند میں ایران کا ایک بحری جہاز بھی تباہ کر دیا۔ اس جہاز میں سوار 180 افراد میں سے 87 ہلاک، 60 لاپتہ جبکہ 32 کو بچا لیا گیا۔یہ جہاز بھارت کے شہر وشاکا پٹنم میں کئی ممالک کے ساتھ ہونے والی بحری مشقوں میں شریک تھا، جن میں امریکہ بھی شامل تھا۔ تاہم مشق مکمل ہونے کے بعد واپسی کے دوران اسے نشانہ بنایا گیا۔

موجودہ صورتحال میں ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا ملک اس جنگ میں شامل ہوتا نظر آ رہا ہے۔ ایران نے مذاکرات سے انکار کر دیا ہے جبکہ امریکہ اور اسرائیل کے حملے بھی جاری ہیں۔

ایک طرف ڈونلڈ ٹرمپ کا رجیم چینج کا خواب اور دوسری طرف ایران کی جانب سے آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم، مشرقِ وسطیٰ میں حالات کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت دنیا کے حالات تیسری جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

رسوئی گیس سلنڈر کی قیمتوں میں 60 روپے کا اضافہ، کمرشیل سلنڈر 115 روپے مہنگا

Next Post

ان خواتین کے نام جو خاموشی سے اپنی جنگ خود لڑ رہی ہیں

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

فوڈ سیفٹی محکمے کی چیکنگ، ماہ رمضان تک ہی محدود کیوں؟

فوڈ سیفٹی محکمے کی چیکنگ، ماہ رمضان تک ہی محدود کیوں؟

27/02/2026
سخت سردی کے باوجود کافی تعداد میں ٹورسٹ وارد کشمیر ہورہے ہیں

ایل جی کی طرف سے 14 سیاحتی مقامات کھولنے کا اعلان!

20/02/2026
جموں کشمیر بجٹ کے اہم نکات

جموں کشمیر سالانہ بجٹ:”طویل سفر“!

13/02/2026
ڈیلی ریٹڈ اور کیژول ملازمین کی مستقلی کے لیے روڈ میپ جلد جاری کیا جائے گا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

ڈیلی ریٹڈ اور کیژول ملازمین کی مستقلی کے لیے روڈ میپ جلد جاری کیا جائے گا: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ

06/02/2026
طلباء میں خود کشی کا تشویشناک رجحان،جموں کشمیر میں کمیٹیاں تشکیل

طلباء میں خود کشی کا تشویشناک رجحان،جموں کشمیر میں کمیٹیاں تشکیل

30/01/2026
جموں وکشمیر میں ایل جی سے 5 سال کے بعد محبوبہ مفتی نے کی ملاقات، کشمیری پنڈتوں کے لئے کیا یہ بڑا مطالبہ

’’تجربات کو جھٹلانے سے حقیقت نہیں بدلتی…‘‘، اے آر رحمان تنازع پر محبوبہ مفتی کا بیان

18/01/2026
Next Post
ان خواتین کے نام جو خاموشی سے اپنی جنگ خود لڑ رہی ہیں

ان خواتین کے نام جو خاموشی سے اپنی جنگ خود لڑ رہی ہیں

ایرانی بحری جہاز معاملہ پر بھارت کا ردعمل، انسانیت کی بنیاد پر ایرانی جہاز کو کوچی میں لنگر انداز ہونے کی اجازت

ایرانی بحری جہاز معاملہ پر بھارت کا ردعمل، انسانیت کی بنیاد پر ایرانی جہاز کو کوچی میں لنگر انداز ہونے کی اجازت

راجوری جیل میں قیدیوں میں تصادم، کئی قیدی اور پولیس اہلکار زخمی

راجوری جیل میں قیدیوں میں تصادم، کئی قیدی اور پولیس اہلکار زخمی

بڈگام، نگروٹہ دونوں نشستوں پر این سی کی جیت یقینی: نائب وزیر اعلیٰ

ایران میں پھنسے جموں و کشمیر کے طلبہ کو نکالنے کی کوششیں جاری: نائب وزیر اعلیٰ سرندر چودھری

کشمیر میں تعلیمی ادارے کل سے دوبارہ کھلیں گے:سکینہ ایتو

کشمیر میں تعلیمی ادارے کل سے دوبارہ کھلیں گے:سکینہ ایتو

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »