امت نیوز ڈیسک //
سرینگر: راجستھان کی میواڑ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم کشمیری نرسنگ طلبہ کی مبینہ حراست کے خلاف جمعرات کو سرینگر میں والدین اور رشتہ داروں نے احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ طلبہ نے نرسنگ کورس کی منظوری کے بارے میں سوال اٹھائے تو انہیں دو دن تک حراست میں رکھا گیا۔
والدین کے مطابق بی ایس سی نرسنگ پروگرام میں شامل کئی طلبہ کو کیمپس میں احتجاج کے دوران حراست میں لیا گیا تھا، بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد کشمیر میں اہلِ خانہ کو اپنے بچوں کی سلامتی اور تعلیمی مستقبل کے حوالے سے شدید تشویش لاحق ہو گئی ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ تر طلبہ چار سالہ کورس کے آٹھویں سمسٹر کے قریب ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ اگر اس پروگرام کو نرسنگ کونسل آف انڈیا اور راجستھان نرسنگ کونسل کی منظوری حاصل نہیں ہے تو ان کا مستقبل خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
احتجاج کرنے والے والدین نے حکومتِ ہند اور جموں و کشمیر انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملے کی فوری تحقیقات کریں، کورس کی منظوری کی صورتحال واضح کریں اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو محفوظ بنائیں۔
والدین نے کہا کہ اگر یہ پروگرام منظور شدہ نہیں ہے تو طلبہ کو کسی تسلیم شدہ ادارے میں منتقل کیا جائے تاکہ ان کے چار سال کی محنت اور اخراجات ضائع نہ ہوں۔





