امت نیوز ڈیسک //
جموں: جموں میں شادی کی ایک تقریب کے دوران فائرنگ کے واقعے کے بعد فاروق عبداللہ نے اسے سکیورٹی میں کوتاہی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے واقعے کی مکمل تحقیقات کی یقین دہانی کرائی ہے۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب وہ تقریب سے باہر نکل رہے تھے تو انہیں فائرنگ کی آواز سنائی دی جسے انہوں نے ابتدا میں پٹاخے سمجھا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ایک شخص نے پستول سے دو فائر کیے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ملزم کو نہیں جانتے اور نہ ہی اس کے ارادوں کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق امیت شاہ نے فون پر اطلاع دی کہ ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ شادی کی تقریب میں کئی اہم شخصیات موجود تھیں اس لیے وہاں مناسب سکیورٹی ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ سکیورٹی میں واضح کوتاہی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے ملک میں بڑھتی ہوئی نفرت پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں برداشت اور اتحاد کی ضرورت ہے اور مختلف نظریات رکھنے والوں کو ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاستی درجہ دینے کا مطالبہ بھی دہرایا اور کہا کہ موجودہ منتخب حکومت کے پاس مکمل اختیارات نہیں ہیں۔
فاروق عبداللہ نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو مہنگائی میں اضافہ ہوگا اور اس کا اثر عام لوگوں، خصوصاً غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا۔
انہوں نے حکومتِ ہند سے اپیل کی کہ وہ اپنی سفارتی کوششوں کے ذریعے خطے میں امن قائم کرنے میں کردار ادا کرے۔





