امت نیوز ڈیسک //
سری نگر، یکم مئی: جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے واضح کیا ہے کہ اردو زبان کو ختم کرنے سے متعلق کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا، اور کہا کہ حکومت نے صرف عوامی رائے حاصل کرنے کے لیے تجاویز طلب کی تھیں جبکہ بعض سیاسی جماعتیں اس معاملے پر غلط معلومات پھیلا رہی ہیں۔
پانپور میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے دو نئے بلاکس کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا،
“اردو کو ختم کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خدا ہمیں ایسے لوگوں سے بچائے جو سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کر سکتے۔ بدقسمتی سے کچھ لوگ صرف جھوٹ کی سیاست کرتے ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ناقدین کو چیلنج کیا کہ وہ کوئی ایسا سرکاری حکم نامہ دکھائیں جس میں اردو کو ہٹایا گیا ہو۔
انہوں نے مزید کہا“انہوں نے صرف وہی حکم نامہ دکھایا جس میں عوامی رائے طلب کی گئی تھی۔ اگر کوئی شخص مشاورت اور فیصلے کے درمیان فرق نہیں سمجھ سکتا تو یہ افسوسناک ہے،”
وزیر اعلیٰ نے التجا مفتی کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ،
“وہ تعلیم یافتہ ہیں، لیکن شاید انہیں ابھی بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عوامی رائے طلب کرنا اور کسی مضمون کو ختم کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ اس معاملے کی فائل ابھی بھی میرے پاس ہے، نہ میں نے اسے منظور کیا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی ارادہ ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ متعلقہ محکمہ کی جانب سے کوئی تجویز آئی ہو سکتی ہے، لیکن اسے ابھی منظوری نہیں دی گئی۔
انہوں نے کہا“ایک منتخب حکومت کے طور پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عوامی رائے حاصل کریں۔ جاری کردہ حکم صرف اسی مقصد کے لیے تھا۔ کچھ لوگ جن کے پاس کوئی تعمیری ایجنڈا نہیں، وہ جھوٹ پر مبنی سیاست کر رہے ہیں،”
آر ٹی آئی سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ پی ڈی پی عوام کی توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا“انہوں نے ماضی میں بی جے پی کی حمایت کی، اور اب اردو کے مسئلے کو اچھال کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے،”۔






