امت نیوز ڈیسک //
سری نگر: فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ انڈیا بلاک ، خاص طور پر کانگریس ، جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کے معاملے پر توقع کے مطابق مضبوط حمایت فراہم نہیں کر رہی۔
پی ٹی آئی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اگرچہ ان کی جماعت اس اتحاد کا حصہ ہے، لیکن اتحاد اپنی صلاحیتوں پر پورا نہیں اتر سکا۔ انہوں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ جموں و کشمیر کے مسائل پر اپوزیشن میں کوئی مضبوط اور متحد حکمت عملی نظر نہیں آ رہی۔
فاروق عبداللہ نے کہا کہ انہیں امید تھی کہ اتحاد زیادہ زور و شور کے ساتھ ریاستی حیثیت کی بحالی کے لیے آواز اٹھائے گا، لیکن ایسا نہیں ہوا، جو کہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے اتحاد پر زور دیا کہ وہ صرف انتخابی اتحاد نہ رہے بلکہ قومی مسائل، خاص طور پر جموں و کشمیر کے مستقبل پر سنجیدگی سے غور کرے اور باقاعدہ اجلاس منعقد کرے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت بھاجپا کا حصہ نہیں ہے اور نہ ہی کبھی ہوگی، بلکہ وہ بدستور انڈیا بلاک کے ساتھ ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ انتخابات کے بعد اتحاد دوبارہ فعال ہو کر قومی اور ریاستی مسائل کو مضبوطی سے اٹھائے گا۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپوزیشن اب تک ایسا کوئی رہنما سامنے نہیں لا سکی جو وزیر اعظم مودی کے چیلنج کا مقابلہ کر سکے۔ انہوں نے اپوزیشن رہنماؤں کو مشورہ دیا کہ وہ عوام کے درمیان جائیں اور زمینی حقیقتوں کا سامنا کریں۔
ریاستی حیثیت کی بحالی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ مرکز نے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ میں اس کا وعدہ کیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی گئی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مختلف ریاستی انتخابات کے بعد اس معاملے پر پیش رفت ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر وعدے پورے نہ ہوئے تو ان کی جماعت سپریم کورٹ سے رجوع کر سکتی ہے، کیونکہ عدالت پہلے ہی ہدایت دے چکی ہے کہ جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت "جلد از جلد” بحال کی جائے۔






