جموں و کشمیر میں ’’آیوشمان بھارت‘‘صحت اسکیم کے تحت خدمات انجام دینے والے نجی اسپتالوں اور ڈائیلاسز مراکز نے یکم جولائی 2026 سے اسکیم سے علیحدگی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ اس اعلان کے بعد وادی اور جموں خطے میں لاکھوں مستفیدین کے مستقبل کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔
جموں و کشمیر پرائیویٹ ہاسپٹلس اینڈ ڈائیلاسز سینٹرز ایسوسی ایشن (JKPHDA) نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسکیم کے تحت منظور شدہ دعوؤں (Claims) کی ادائیگی میں غیر معمولی تاخیر، بغیر مؤثر نظرثانی کے کلیمز کی کٹوتی اور مسترد کیے جانے کے واقعات، اور بڑھتے ہوئے طبی اخراجات کے باعث نجی طبی اداروں کے لیے خدمات جاری رکھنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ڈائیلاسز، انتہائی نگہداشت (ICU)، سرجری، ہنگامی طبی امداد، کینسر کے علاج، امراض قلب کے علاج اور حادثاتی مریضوں کی دیکھ بھال جیسی خدمات کی فراہمی کے لیے ادویات، طبی ساز و سامان، ماہر ڈاکٹروں اور تربیت یافتہ عملے کی مسلسل دستیابی ناگزیر ہے۔ تاہم، بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث اسپتال شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
آیوشمان بھارت صحت اسکیم کیا ہے؟
آیوشمان بھارت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (PM-JAY) حکومت ہند کی ایک فلاحی صحت بیمہ اسکیم ہے، جس کا مقصد غریب اور کمزور طبقات کو مفت علاج کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ جموں و کشمیر میں اس اسکیم کو’’آیوشمان بھارت صحت اسکیم‘‘ کے نام سے نافذ کیا گیا، جس کے تحت یونین ٹیریٹری کے تقریباً تمام مستقل باشندوں کو سالانہ ’’پانچ لاکھ روپے تک کی کیش لیس علاج کی سہولت‘‘ فراہم کی جاتی ہے۔
اس اسکیم کے تحت مستحق افراد سرکاری اور منظور شدہ نجی اسپتالوں میں مختلف بیماریوں اور جراحی عمل کے لیے علاج حاصل کر سکتے ہیں۔ دل کے امراض، گردوں کی بیماریوں، کینسر، آرتھوپیڈک سرجری، زچگی اور دیگر کئی پیچیدہ امراض کا علاج بھی اس میں شامل ہے۔
نجی اسپتالوں کے تحفظات
JKPHDA کا کہنا ہے کہ منظور شدہ کلیمز کی ادائیگی کئی کئی ماہ تک زیر التوا رہتی ہے، جس کی وجہ سے اسپتالوں کی مالی حالت متاثر ہو رہی ہے۔ ایسوسی ایشن نے الزام لگایا ہے کہ بعض کلیمز کو بغیر مناسب جواز کے مسترد یا کم کر دیا جاتا ہے، جبکہ اس کے خلاف اپیل یا نظرثانی کا کوئی مؤثر نظام موجود نہیں۔
ایسوسی ایشن نے مزید دعویٰ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے سبب عالمی سطح پر طبی سامان اور ادویات کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی ادویات، بشمول سسپلاٹین (Cisplatin) اور کاربوپلاٹین (Carboplatin)، کی دستیابی اور قیمتوں پر منفی اثر پڑا ہے۔
اسی طرح دل کے امراض میں استعمال ہونے والے اسٹنٹس اور آرتھوپیڈک امپلانٹس کی خریداری کے لیے خطیر سرمایہ درکار ہوتا ہے، لیکن ادائیگیوں میں تاخیر کے باعث اسپتالوں کے لیے ان طبی آلات کا ذخیرہ برقرار رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
180 کروڑ روپے کے غیر استعمال شدہ فنڈز کا دعویٰ
ایسوسی ایشن نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ آیوشمان بھارت کے تقریباً ’’180 کروڑ روپے کے فنڈز سرکاری اسپتالوں میں غیر استعمال شدہ پڑے ہیں‘‘، جبکہ نجی اسپتال منظور شدہ کلیمز کی ادائیگی کے منتظر ہیں۔ اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے ایسوسی ایشن نے سرکاری اور نجی اسپتالوں کے لیے الگ الگ ادائیگی کے نظام کا مطالبہ کیا ہے۔
مریضوں پر ممکنہ اثرات
اگر نجی اسپتال واقعی یکم جولائی سے اسکیم سے الگ ہو جاتے ہیں تو اس کا سب سے زیادہ اثر عام مریضوں پر پڑے گا۔ ہزاروں افراد، خصوصاً ڈائیلاسز، کینسر، دل کے امراض اور فوری سرجری کے محتاج مریضوں کو علاج کے لیے صرف سرکاری اسپتالوں پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے، جہاں پہلے ہی مریضوں کا دباؤ زیادہ ہے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ بعض جراحی عمل، مثلاً پتہ (Gall Bladder) کی سرجری اور بواسیر کے آپریشن کے لیے سرکاری اسپتالوں میں کئی کئی ماہ کی انتظار فہرست موجود ہے۔
حکومت سے مطالبات
نجی اسپتالوں کی تنظیم نے حکومت اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ: تمام زیر التوا کلیمز کی فوری ادائیگی کی جائے؛ تاخیر سے ہونے والی ادائیگیوں پر معاہدے کے مطابق سود بھی ادا کیا جائے؛ مسترد شدہ کلیمز کے لیے شفاف نظرثانی کا نظام قائم کیا جائے؛ نیشنل ہیلتھ اتھارٹی کی ہدایات کے مطابق ادائیگیوں کے مقررہ اوقات کی پابندی کی جائے؛ سرکاری اور نجی اسپتالوں کے ادائیگی نظام کو الگ کیا جائے؛ مریضوں کو اپنی پسند کے اسپتال کے انتخاب کا حق برقرار رکھا جائے۔
ایسوسی ایشن نے واضح کیا ہے کہ وہ عوامی مفاد اور صحت عامہ کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے، تاہم بروقت ادائیگیوں کے بغیر معیاری طبی خدمات کا تسلسل برقرار رکھنا ممکن نہیں۔ تنظیم نے جموں و کشمیر انتظامیہ، اسٹیٹ ہیلتھ ایجنسی اور دیگر متعلقہ اداروں سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے تاکہ آیوشمان بھارت صحت اسکیم کے تحت علاج معالجہ کی سہولیات بلا تعطل جاری رہ سکیں۔






