• Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home
ePaper
جمعہ, جون ۱۲, ۲۰۲۶
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر
No Result
View All Result
Ummat News
No Result
View All Result
زوجیلا ٹنل میں تاریخی پیش رفت:کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطے کا خواب حقیقت کے قریب

زوجیلا ٹنل میں تاریخی پیش رفت:کشمیر اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں رابطے کا خواب حقیقت کے قریب

ڈیسک رپورٹ/واجد رعنا

by امت ڈیسک
12/06/2026
A A
Share on FacebookShare on TwitterWhatsappTelegramEmail

ملک کے اہم ترین بنیادی ڈھانچوں کے منصوبوں میں شمار ہونے والے زوجیلا ٹنل پروجیکٹ میں منگل 9جون 2026کے روز ایک تاریخی سنگ میل اُس وقت عبور کیا گیا جب سرنگ کے دونوں سروں کے درمیان باقی رہ جانے والا 2.5 میٹر کا فاصلہ کامیابی کے ساتھ ختم کر کے ’’بریک تھرو‘‘ حاصل کیا گیا۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی کشمیر وادی اور لداخ کے درمیان ہر موسم میں زمینی رابطے کے کئی دہائیوں پرانے خواب کی تعبیر مزید قریب آ گئی ہے۔

مرکزی وزیر برائے سڑک نقل و حمل و شاہراہیں نتن گڈکری نے لداخ کے منی مارگ میں سرنگ کے مشرقی دہانے پر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے دھماکہ کر کے بریک تھرو کا اعلان کیا۔ اس موقع پر جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، اعلیٰ سرکاری افسران اور منصوبے سے وابستہ انجینئروں نے بھی شرکت کی۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ آئی ڈی سی ایل) کے مطابق یہ کامیابی مقررہ مدت سے تقریباً چھ ماہ قبل حاصل کی گئی ہے، جبکہ سرنگ کو فروری 2028 تک عوام کے لیے کھولے جانے کی توقع ہے۔ اطلاعات کے مطابق منصوبے کا تقریباً 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے، جب کہ بقیہ سول تعمیراتی اور تکنیکی تنصیبات کا مرحلہ آئندہ مہینوں میں مکمل کیا جائے گا۔

زوجیلا ٹنل کا پس منظر

زوجیلا درہ صدیوں سے کشمیر اور لداخ کے درمیان واحد زمینی راستہ رہا ہے۔ سطح سمندر سے تقریباً 11,500 فٹ سے زائد بلندی پر واقع یہ درہ سردیوں کے دوران شدید برف باری، برفانی تودوں اور خراب موسمی حالات کے باعث کئی ماہ تک بند رہتا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں لداخ کا خطہ عملی طور پر ملک کے دیگر حصوں سے کٹ جاتا ہے۔

ہر سال نومبر سے مئی تک شاہراہ کی بندش نہ صرف عام شہریوں بلکہ طلبہ، مریضوں، تاجروں، سیاحوں اور ٹرانسپورٹ شعبے سے وابستہ افراد کے لیے شدید مشکلات کا باعث بنتی رہی ہے۔ ادویات، ایندھن، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروری سامان کی ترسیل متاثر ہونے سے مقامی آبادی کو اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

سنہ 1999 کی ’’کارگل جنگ ‘‘کے بعد اس شاہراہ کی تزویراتی اہمیت مزید اُجاگر ہوئی اور ہر موسم میں رابطہ قائم رکھنے کے لیے مستقل حل تلاش کرنے کی ضرورت شدت سے محسوس کی گئی۔ متعدد مراحل، ٹینڈروں اور منصوبہ بندی کے بعد آخرکار اس عظیم منصوبے پر عملی کام کا آغاز ہوا۔

منصوبے کی نمایاں خصوصیات

زوجیلا ٹنل تقریباً 13.15 کلومیٹر طویل، 9.5 میٹر چوڑی اور 7.57 میٹر بلند سنگل ٹیوب، دو طرفہ روڈ سرنگ ہے، جسے جدید انجینئرنگ تقاضوں کے مطابق تعمیر کیا جا رہا ہے۔ سرنگ کے ساتھ رابطہ سڑکیں اور پل بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں، جب کہ پورا منصوبہ سونہ مرگ سے منی مارگ تک تقریباً 31 کلومیٹر پر محیط ہے۔

ماہرین کے مطابق منصوبے کی تکمیل کے بعد سونہ مرگ سے منی مارگ تک سفر کا دورانیہ، جو برفانی حالات میں ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ یا اس سے بھی زیادہ ہو جاتا تھا، کم ہو کر محض 15 منٹ رہ جائے گا۔

زوجیلا ٹنل منصوبے پر تقریباً 6500 سے 6800 کروڑ روپے کی لاگت متوقع ہے۔ اگرچہ منصوبے کو مختلف مراحل میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، تاہم موجودہ پیش رفت کے بعد امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اسے سنہ 2028 تک عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
عوامی مشکلات کا خاتمہ

زوجیلا ٹنل کی تعمیر سے سب سے زیادہ فائدہ عام شہریوں کو پہنچنے کی توقع ہے۔ لداخ کے طلبہ کو تعلیمی اداروں تک رسائی میں آسانی ہوگی، مریضوں کو بروقت طبی سہولیات میسر آئیں گی اور تاجروں کے لیے سامان کی نقل و حمل نسبتاً سستی اور محفوظ ہو جائے گی۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ زوجیلا درے کی بندش کے دوران کئی مرتبہ مسافر راستے میں پھنس جاتے تھے، جبکہ ہنگامی طبی صورت حال میں مریضوں کی منتقلی بھی ایک بڑا چیلنج بن جاتی تھی۔ شدید سردی اور برف باری کے دوران لوگوں کو ہفتوں تک غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

سیاحت سے وابستہ حلقوں کے مطابق سال بھر رابطہ بحال ہونے سے سونہ مرگ، دراس، کارگل اور لداخ میں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا، جس سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشت کو تقویت ملے گی۔

تزویراتی اہمیت

ماہرین زوجیلا ٹنل کو نہ صرف ترقیاتی بلکہ تزویراتی اعتبار سے بھی انتہائی اہم قرار دیتے ہیں۔ لداخ کے سرحدی علاقوں تک فوجی ساز و سامان اور نفری کی بروقت رسائی قومی سلامتی کے نقطۂ نظر سے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ہر موسم میں قابلِ استعمال راستہ دفاعی تیاریوں کو مزید مستحکم بنائے گا۔

بریک تھرو تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر نتن گڈکری نے اسے بھارت کی بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں’’سنہرا دن‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ لداخ کے عوام کے لیے ایک اہم لائف لائن ثابت ہوگا اور جدید حفاظتی معیار کے ساتھ تعمیر کی جانے والی یہ سرنگ آنے والی نسلوں کے لیے ترقی کی نئی راہیں ہموار کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ مؤثر منصوبہ بندی کے ذریعے منصوبے کی لاگت میں نمایاں کمی لائی گئی، جس سے سرکاری خزانے پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملی۔

ایک دیرینہ خواب کی تعبیر

زوجیلا ٹنل کا بریک تھرو محض انجینئرنگ کی کامیابی نہیں بلکہ اُن لاکھوں لوگوں کی اُمیدوں کی علامت ہے جو برسوں سے موسم کی قید سے آزاد، محفوظ اور مسلسل زمینی رابطے کے منتظر تھے۔ اگر منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف کشمیر اور لداخ کے درمیان فاصلے سمیٹ دے گا بلکہ سماجی، معاشی اور انسانی سطح پر ایک نئے دور کا آغاز بھی ثابت ہوگا۔

Related

ShareTweetSendShareSendShare
Previous Post

کشمیر کے قدرتی وسائل کی حفاظت :حکومت کی ذمہ داری، عوامی کردار اور ترقی کا متوازن تصور

امت ڈیسک

امت ڈیسک

Related Posts

ایم پی لیڈ فنڈز: وادی کے تین اراکین پارلیمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان !

ایم پی لیڈ فنڈز: وادی کے تین اراکین پارلیمنٹ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان !

12/06/2026
دہلی کی جانب نیشنل کانفرنس کا مارچ:ریاستی درجے کی بحالی کی نئی سیاسی مہم یا عوامی بے چینی کا ازالہ؟

دہلی کی جانب نیشنل کانفرنس کا مارچ:ریاستی درجے کی بحالی کی نئی سیاسی مہم یا عوامی بے چینی کا ازالہ؟

05/06/2026
33سال بعد حسین علیہ السلام کے نعروں سے سرینگر کی سڑکیں پھر گونج اُٹھیں

 لداخ کا سبق اور کشمیر کی سیاست: کیا متحدہ سیاسی آواز جموں و کشمیر کے تعطل کو توڑ سکے گی؟

05/06/2026
سوشل میڈیا کی دوستی، سرحد پار محبت اور ایل او سی کی سخت حقیقت

سوشل میڈیا کی دوستی، سرحد پار محبت اور ایل او سی کی سخت حقیقت

05/06/2026
ژالہ باری کی توڑی میوہ صنعت کی کمر!

ژالہ باری کی توڑی میوہ صنعت کی کمر!

05/06/2026
* جے اینڈ کے نظربندوں کو UT جیلوں سے باہر منتقل کرنے کے خلاف سپریم کورٹ نے درخواست ہائی کورٹ میں منتقل کردی*

 یو اے پی اے مقدمات میں جموں و کشمیر کی شرحِ سزا ایک فیصد سے بھی کم: سپریم کورٹ

22/05/2026

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

  • Policy
  • Contact Us
  • About Us
  • Home

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • خبریں
  • خاص رپورٹ
  • نقطہ نظر
  • احوال امـت
  • عجب دنیا
  • بلاگ
  • ویڈیو
  • ای پیپر

© Designed By Gabfire.in - UMMAT NEWS

Translate »