ڈیسک رپورٹ/عاصم فاروق
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے اونتی پورہ علاقے میں واقع پدگام پورہ، ڈانگر پورہ، گوری پورہ، وندکھ پورہ اور حاجی بل سمیت متعدد دیہات میں گزشتہ چند ہفتوں سے ایک ایسا تنازعہ جنم لے چکا ہے جس نے نہ صرف سینکڑوں کسان خاندانوں کے معاشی مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے بلکہ جموں و کشمیر میں سرکاری اراضی، عوامی حقوق اور ترقیاتی منصوبوں کے درمیان توازن سے متعلق ایک نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔
تنازعہ تقریباً 1200 سے 1500 کنال سرکاری اراضی کے گرد گھومتا ہے جس پر مقامی باشندے گزشتہ چھ سے سات دہائیوں سے دھان، سرسوں اور دیگر فصلوں کی کاشت کرتے آرہے ہیں۔ رواں سیزن میں جب کسان دھان کی پنیری لگانے اور کھیت تیار کرنے میں مصروف تھے تو محکمہ مال کے اہلکاروں نے انہیں زمین پر مزید کاشتکاری سے روک دیا۔ اس اقدام کے بعد علاقے میں بے چینی پھیل گئی اور کسانوں نے اسے اپنے روزگار اور وجود پر حملہ قرار دیا۔
اصل مسئلہ کیا ہے؟
انتظامیہ کے مطابق متعلقہ اراضی سرکاری ملکیت ہے اور اسے لینڈ بینک کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ سرکاری ریکارڈ میں یہ زمین ریاستی اراضی کے طور پر درج ہے اور مختلف سرکاری منصوبوں، اداروں اور مستقبل کی ضروریات کے لیے محفوظ رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب مقامی کسانوں کا استدلال ہے کہ اگرچہ زمین سرکاری ریکارڈ میں ان کے نام نہیں، تاہم وہ کئی نسلوں سے اس پر کاشتکاری کرتے آرہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے آباؤ اجداد نے اس بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنایا، نہری نظام سے جوڑا اور برسوں کی محنت کے بعد اسے زرخیز زرعی رقبے میں تبدیل کیا۔
کسانوں کے مطابق اس زمین سے حاصل ہونے والی پیداوار ہی ان کے خاندانوں کی بنیادی معاشی ضرورتیں پوری کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اچانک اس زمین سے محروم کر دیا گیا تو سینکڑوں خاندان بے روزگاری اور غربت کا شکار ہو جائیں گے۔
’’زمین گئی تو روزی بھی چلی جائے گی‘‘
ساٹھ سالہ کسان محمد اکبر میر ان متاثرہ افراد میں شامل ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اس زمین پر دھان اور سرسوں کی کاشت کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان نے برسوں پہلے دوسری زمین فروخت کرکے اس علاقے میں کاشتکاری کے حقوق حاصل کیے تھے۔ بیس افراد پر مشتمل ان کےخاندان کا انحصار اسی زمین سے حاصل ہونے والی فصل پر ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر سال سینکڑوں بوریاں دھان اور بڑی مقدار میں سرسوں کی پیداوار حاصل ہوتی تھی جو گھر کے اخراجات پورے کرنے کا اہم ذریعہ تھی۔
متاثرہ کسانوں کا دعویٰ ہے کہ بعض مقامات پر محکمہ مال کے اہلکاروں نے پہلے سے لگائی گئی دھان کی پنیری بھی تباہ کر دی اور لوگوں کو آئندہ زمین پر قدم نہ رکھنے کی وارننگ دی گئی۔
زمین سرکاری ہے، قانون پر عمل ہوگا!
انتظامیہ اس معاملے کو غیر قانونی قبضے کے خاتمے اور سرکاری اراضی کے تحفظ سے جوڑ رہی ہے۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اونتی پورہ مشتاق احمد لون کے مطابق متعلقہ اراضی سرکاری زمین ہے اور مختلف محکموں کی ضروریات کے مطابق اسے الاٹ کیا جا سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اسی علاقے کی زمین پہلے ہی اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (IUST)، سوشل فارسٹری، جموں و کشمیر ہاؤسنگ بورڈ اور دیگر سرکاری اداروں کو فراہم کی جا چکی ہے۔
تحصیل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسانوں کو صرف ان حصوں پر کاشتکاری سے روکا گیا ہے جو سرکاری مقاصد کے لیے مختص ہو چکے ہیں یا مستقبل میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ بعض سرکاری افسران کے مطابق زمین کو فی الحال ’’لینڈ بینک‘‘ کے طور پر محفوظ رکھا جا رہا ہے تاکہ مستقبل میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
خوف، بے چینی اور احتجاج
انتظامی کارروائی کے بعد پورے علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ انہیں نہ تو متبادل زمین دی گئی اور نہ ہی ان کے مستقبل کے بارے میں کوئی واضح یقین دہانی کرائی گئی۔
متاثرہ دیہات کے سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرے کیے اور حکومت سے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ مقامی باشندوں کے مطابق یہ صرف زمین کا مسئلہ نہیں بلکہ سینکڑوں خاندانوں کے معاشی وجود اور غذائی تحفظ کا معاملہ ہے۔
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب حکومت زرعی اراضی کے تحفظ کی بات کرتی ہے تو پھر دہائیوں سے زیرِ کاشت زمین کو لینڈ بینک میں شامل کرنا ایک تضاد محسوس ہوتا ہے۔
سیاست بھی میدان میں آگئی
معاملہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا جب مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما کسانوں کے حق میں کھل کر سامنے آگئے۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمن پرہ نے سب سے پہلے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور کسانوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ بعد ازاں پی ڈی پی کی سینئر رہنما التجا مفتی نے بھی کسانوں کے حق میں بیان دیتے ہوئے حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
منگل کے روز ایک غیر معمولی منظر اس وقت دیکھنے کو ملا جب پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ رہنما ایک ساتھ دھان کے کھیتوں میں اُتر گئے۔ ان رہنماؤں میں وحید پرہ، سابق رکن پارلیمان حسنین مسعودی، مختار احمد بندھ اور بی جے پی رہنما ارشد حسین بٹ شامل تھے۔
سیاسی رہنماؤں نے کسانوں کے ساتھ مل کر دھان کی پنیری لگائی اور اعلان کیا کہ وہ کسانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کشمیر کی سیاست میں مختلف نظریات رکھنے والی جماعتوں کا کسی ایک مقامی مسئلے پر یکجا ہونا غیر معمولی پیش رفت ہے۔
2023 کی مہم اور موجودہ کارروائی
یاد رہے کہ سال 2023 میں جموں و کشمیر میں سرکاری زمین واگزار کرانے کی ایک وسیع مہم شروع کی گئی تھی جس کے دوران ہزاروں کنال اراضی کو سرکاری قبضے میں لینے کی کوشش کی گئی۔ تاہم شدید عوامی اور سیاسی ردعمل کے بعد اس مہم کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔
موجودہ کارروائی کو اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ یہ معمول کی انتظامی کارروائی ہے، لیکن متاثرہ علاقوں کے لوگوں کا خیال ہے کہ تین برس بعد دوبارہ اسی نوعیت کی کارروائی شروع ہونے سے ان کے مستقبل پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
تنازعے کے وسیع اثرات
ماہرین کے مطابق یہ تنازعہ صرف چند دیہات یا چند سو کنال زمین کا معاملہ نہیں بلکہ کشمیر میں زمین کے استعمال، زرعی تحفظ، ترقیاتی منصوبوں اور مقامی آبادی کے حقوق کے درمیان توازن کا ایک اہم امتحان ہے۔
کشمیر میں دھان بنیادی غذائی فصل سمجھی جاتی ہے اور ہزاروں خاندان براہ راست یا بالواسطہ طور پر زرعی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ ایسے میں زیرِ کاشت زمین کے استعمال میں تبدیلی نہ صرف مقامی معیشت بلکہ خطے کے زرعی ڈھانچے پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
حل کیا ہو سکتا ہے؟
کسانوں اور مقامی نمائندوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت یا تو انہیں اسی زمین پر کاشتکاری جاری رکھنے کی اجازت دے یا پھر متبادل زرعی زمین اور مناسب معاوضہ فراہم کرے۔ دوسری جانب انتظامیہ سرکاری اراضی کے قانونی تحفظ اور مستقبل کے ترقیاتی منصوبوں کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔
فی الحال تنازعہ اپنے ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن جس انداز میں عوامی ناراضگی اور سیاسی سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا ہے، اس سے واضح ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ مسئلہ جنوبی کشمیر کی سیاست اور انتظامی پالیسیوں کے اہم ترین موضوعات میں شامل رہ سکتا ہے۔ حکومت کے اگلے اقدامات اور متاثرہ کسانوں کی جدوجہد ہی اس تنازعے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔






