امت نیوز ڈیسک //
سرینگر، 14 جولائی: سرینگر کے نقشبند صاحب اور نوہٹہ سمیت قدیم شہر کے کئی علاقوں میں منگل کو مسلسل دوسرے روز بھی سخت سیکورٹی انتظامات اور پابندیاں برقرار رہیں تاکہ 13 جولائی کے شہداء کی یاد میں مزارِ شہداء پر لوگوں کے اجتماع کو روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق علاقے میں امن و قانون کی صورتحال برقرار رکھنے کے لیے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے، جبکہ نقشبند صاحب کے اطراف میں سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
پیر کے روز بھی سیکورٹی فورسز نے مزارِ شہداء جانے والے تمام راستے بند کر دیے تھے تاکہ کسی بھی عوامی اجتماع کو روکا جا سکے۔
واضح رہے کہ 13 جولائی 1931 کو سرینگر کی سینٹرل جیل کے باہر احتجاج کے دوران 22 افراد ڈوگرہ فوج کی فائرنگ میں ہلاک ہوئے تھے۔ نیشنل کانفرنس کے صدر اور وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں مزارِ شہداء پر حاضری دینے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے بعد انہوں نے اپنی اپنی پارٹی دفاتر میں ہی شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
قابل ذکر ہے کہ 2020 میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے 13 جولائی کو سرکاری تعطیلات کی فہرست سے خارج کر دیا تھا۔






