سری نگر//پولیس نے کہا کہ ایک نوجوان جس کی لاش جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع کے ایک باغ میں پیر کی صبح ملی تھی، وہ ایک سرگرم جنگجو کا بھائی تھا اور اسے عسکری گروپوں کے درمیان گروہی دشمنی کی وجہ سے مارا گیا تھا۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا،”مقتول کا ایک بھائی (عاشق نیگرو) عسکری تنظیم جیشِ محمد کا سرگرم جنگجو ہے اور اس وقت پاکستان میں مقیم ہے، دوسرا بھائی (جنگجو عباس نیگرو) 2014 میں ایک تصادم میں مارا گیا تھا اور تیسرا بھائی ( ریاض نیگرو) اس وقت دہشت گردانہ حملے کے ایک کیس میں جیل میں بند ہے”۔
کشمیر زون پولیس نے ایک ٹویٹ کر کے بتایا،”ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوان کا قتل جنگجو گروپوں کے درمیان گروہی دشمنی کی وجہ سے ہوا ہے۔ کیس کی تفتیش انتہائی پیشہ ورانہ انداز میں جاری ہے اور اس جرم میں ملوث جنگجووں کی جلد شناخت کر کے قانون کے تحت سختی سے نمٹا جائے گا”۔
قبل ازیں، پیر کی صبح پلوامہ کے ایک دیہات میں منظور احمد ننگرو ولد غلام محمد ننگرو عمر 30 سال کی لاش برآمد کی گئی تھی، جس پر گولی لگنے کے نشان تھے۔










