کیا بی جے پی کی الائنس میں شامل جماعتوں پر یلغار اس اتحاد کو دوام بخش رہی ہے
وزیر داخلہ امیت شاہ جموں وکشمیر کے تین روزہ دورے کے بعدواپس دہلی روانہ ہوچکے ہیں۔ جموں وکشمیر میں موصوف نے دوسری کئی مصروفیات کے ساتھ ساتھ راجوری اور بارہمولہ اضلاع میں دو جلسوں سے خطاب بھی کیا۔راجوری میں خطاب کے دوران موصوف کا ہدف جموں خطے کے مسائل تھے تو کشمیر میں انہوں نے علیحدگی اور ملی ٹینسی کے متوازی نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی اور ان کے اتحاد گپکار الائنس پر وار کئے اور پچھلے 70 سے زائد عرصے میں جو کچھ بُرا جموںو کشمیر میں ہوا ہے اس کے لئے انہیں مجرم قرار دیا۔ موصوف کا کہنا تھا کہ آج سے قبل جو تین خاندان اس علاقے یعنی جموں وکشمیر میں حکومت کرتے تھے انہوں نے علاقے کی ترقی کے لیے مشکل سے کوئی کام کیا جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کے ہر گاؤں تک جمہوریت کو یقینی بنانے کا ایک بہت بڑا کام مکمل کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے کشمیر میں جمہوریت کا مطلب تین خاندانوں،87ایم ایل اے اور6ایم پی کے اندر ہی محدود تھا، لیکن5اگست 2019 کے بعد وزیر اعظم مودی نے30ہزار لوگوں کو پنچ، سرپنچ کی سطح پر لے جا کر نیز گاؤں کی بی ڈی سی اور ضلع پنچایت وغیرہ کے ذریعے جمہوریت سے جوڑ دیا ہے ۔ امیت شاہ کا کہنا تھا کہ پہلے ، بدعنوانی کی وجہ سے ، غریبوں کے پیسے کا غلط استعمال کیا جاتا تھا، لیکن اب، وزیر اعظم نریندر مودی اس بات کو یقینی بنا رہے ہیں کہ غریبوں کا پیسہ غریبوں تک پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ تین خاندانوں کی حکمرانی میں جو سرمایہ کاری کشمیر کے اندر ہوئی تھی اس سے دوگنی تگنی ان چار سالوں میں ہوئی ہے ۔ اس سب مبینہ کامیابیوں کو وزیرداخلہ نے دفعہ370 کی منسوخی کے ساتھ بھی جوڑ دیا۔
بہرحال وجے دیوس یعنی دسہرے کے دن منعقدہ جلسے میں موصوف نے ان کے بقول پریوار واد اور آتنک واد کے خلاف اپنی فتح کا اعلان کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر طاقت ور ترین بی جے پی حکومت کو ایک بظاہر نحیف و کمزور پیپلز الائنس فار گپکار ڈکلریشن جسے عرف عام میں گپکار الائنس کہتے ہیں‘ سے اتنی خنک یا پھر کہئے نفرت کیوں ہے؟ کہ اس اتحاد کو گپکار گینگ سے لیکر کرپشن بلکہ سارے فساد کی جڑ تک قرار دیا جارہا ہے ۔کئی سیاسی مبصرین سوال کررہے ہیں کہ کیا یہ وہی نیشنل کانفرنس نہیں کہ جس نے اٹل بہاری واجپائی کی حکومت میں کئی مرکزی وزارتیں یہاں تک کہ وزارت خارجہ کا قلمدان بھی حاصل کیا تھا۔ کیا یہ وہی نیشنل کانفرنس نہیں کہ جس نے جموں وکشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کے عمل میں کلیدی رول ادا نہیں کیا۔ کیا یہ وہی فاروق عبداللہ نہیں ہیں کہ جنہوں نے90 کی دہائی میں جب کہ دنیا بھر میں بھارت پر جموںو کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے ضمن میں تنقید ہورہی تھی‘ جنیوا جاکر بھارت کی نمائندگی کی تھی۔ جس پی ڈی پی پر وزیر داخلہ تیر و تفنگ سادھے ہوئے ہیں کیا یہ وہی پی ڈی پی نہیں ہے کہ جس کے بانی مفتی محمد سعید مرکز میںوی پی سنگھ والی مخلوط حکومت کے وزیر داخلہ بنے تھے جس کا خود بی جے پی بھی ایک حصہ تھی۔ کیا یہ وہی پی ڈی پی نہیں جس کے ساتھ مل کر بی جے پی نے جموں وکشمیر میں حکمرانی کی تھی۔نیشنل کانفرنس کے ایک لیڈر کے بقول کیا بھارت کے وزیر داخلہ پچھلے 70سال سے جموں وکشمیر میں جمہوریت نہ ہونے کا اعلان کرکے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس عرصے میں بھارتی الیکشن کمیشن نے جموںو کشمیر میں جتنے بھی الیکشن کرائے وہ سب جھوٹے اور دھاندلی زدہ تھے !
یہ شکوے شکایات اپنی جگہ لیکن ایک چبھتا ہوا سوال ضرور ہے اور وہ یہ کہ آخر بی جے پی کو گپکار اتحاد کے ساتھ اتنی خنک کیوں ہے ؟ کیا بی جے پی اس اتحاد کوجموںو کشمیر کے حوالے سے اس کے مرتب کردہ منصوبے کی راہ میں رُکاوٹ تصور کرتی ہے یا پھر یہ مخالفت اور مخاصمت ہی کسی سوچے سمجھے منصوبے کا کوئی اسکرپٹ ہے ۔ واضح رہے گپکار الائنس 4گست 2019ئ کی رات کو بنا تھا یعنی دفعہ370 کی منسوخی سے کچھ گھنٹہ قبل اور اپنے وجود میں آنے کے بعد اس نے ایک اعلان جاری کیا تھا جس میںمتفقہ طور پر فیصلہ کیا گیاتھا کہ تمام جماعتیں جموں و کشمیر کی شناخت، خودمختاری اور خصوصی حیثیت کے تحفظ اور دفاع کے لیے اپنے عزم میں متحد ہوں گی۔ آرٹیکل 35A،370 کی منسوخی، ریاست کی غیر آئینی حد بندی یا تقسیم جموں، کشمیر اور لداخ کے لوگوں کے خلاف جارحیت ہوگی۔اسی رات ان سارے لیڈران کو حراست میں لیا گیا اور5اگست 2019کو جو ہواوہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے ۔
تمام قیاس آرائیوں کے برعکس قید سے رہائی کے بعد یہ لیڈران اور جماعتیں پھر ملیں اور ریاست کی تقسیم اور دفعہ370 ،35 اے کی بحالی کے لئے جدوجہد کا اعلان دہرایا۔ اسی درمیان ڈی ڈی سی اوربلدیاتی الیکشن کا بگل بج گیا جس میں اس اتحاد جس میں اسوقت جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ، جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، ، مظفر حسین بیگ، پیپلز کانفرنس زیر صدارت سجاد غنی لون،جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی،کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا(مارکسسٹ) ،عوامی نیشنل کانفرنس، پی یو ایف وغیرہ شامل تھے‘ نے مل کر لڑنے کا فیصلہ کرلیا۔ یہ وادی کی تاریخ میں ایک واٹرشیڈ لمحہ تھا اور کشمیریوں نے اس فیصلے کی تائید کرتے ہوئے اتحاد کو بھرپور کامیابی دلوائی۔ بی جے پی اور اسکے حمایتی جن میں اپنی پارٹی کے الطاف بخاری قابل ذکر ہیں‘ گپکار اتحاد کی اس کامیابی سے حیرت زدہ ہوئے اور حق یہی ہے کہ جمہوریت کو زمینی سطح پر لانے کے بلند بانگ دعوووں کے باوجودڈی ڈی سی یا میونسپل کمیٹیوں کو کوئی خاطر خواہ طاقت نہیں دی گئی جس کی ایک وجہ غالباً ان میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کے حمایتیوں کی بڑی تعداد میں موجودگی بھی کہی جاتی ہے ۔ڈی ڈی سی الیکشن میں کامیابی کا شاخسانہ ہی تھا کہ فوراً سجاد غنی لون اس اتحاد سے الگ ہوگئے جس کے بعد شاہ فیصل کی سربراہی والی پی یو ایف بھی اس اتحاد سے راہیں جدا کرگئے ۔ گپکار اتحاد سے ان جماعتوں کا اخراج کوئی معنی نہیں رکھتا تھا کیونکہ اس اتحاد کا اصل معنی اس میں شامل نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی ہی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ آج تک اس اتحاد کو توڑنے کے لئے کی گئی ہر ترہیبی، ترغیبی اور تحریصی کاوش ناکام ہوئی ہے ۔ ایک سیاسی مبصر نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں اس اتحاد اور جموں وکشمیر میں مستقبل کی سیاست پر لکھتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ’’اگرچہ جموں اور کشمیر میں سیاسی جماعتوں میں مرکزی زیر انتظام علاقے میں جمہوری عمل کی بحالی کے بارے میں شکوک و شبہات ہیں لیکن کچھ قرائن بتارہے ہیںکہ جموں و کشمیر میں سال کے آخر تک انتخابات ہونے کا بھی امکان ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے کچھ مہینوں سے ،مرکزی اور مقامی جماعتیں وادی چناب اور پیر پنچال خطے میں نچلی سطح پر مہم پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں ۔ چناب اور پیرپنجال ، جہاںہندوؤں اور مسلمانوں کی مخلوط آبادی ہے ، سیاسی جماعتوں کے درمیان یہ احساس بڑھ رہا ہے کہ مسلم اکثریتی وادی کشمیر اور ہندو اکثریتی جموں میں کسی بھی انتخابی عمل کا نتیجہ طے ہے اور وہی اتحاد یا جماعت جموںوکشمیر میں حکومت بناسکتی ہے جس کو ان دو خطوں میں کامیابی حاصل ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ نیشنل کانفرنس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی دونوں نے اپنی توجہ وادی ٔکشمیر سے ہٹا کر، جہاں ان کے روایتی ووٹ بینک موجود ہیں، جموں کی طرف مبذول کر لی ہے۔ بی جے پی اور الطاف بخاری کی قیادت والی اپنی پارٹی نے بھی حمایت حاصل کرنے کے لیے علاقے کا دورہ کیا ہے ۔ جموں ڈویژن کی34نشستوں میں سے21چناب اور پیر پنجال کے علاقے میں ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ بی جے پی یہاں کامیابی کے بغیر کسی بھی صورت میں حکومت سازی نہیں کرسکتی۔ پیر پنجال اورچناب خطے اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن میں شامل این سی اور پی ڈی پی اس کے دو اہم شراکت دار ہیں اور انہوں نے انتخابات ہونے کی صورت میں مشترکہ محاذ اور اکٹھے لڑنے کا اشارہ دیا ہے۔‘‘
نیشنل کانفرنس کے ایک سینئرلیڈر کی مانیں تواس معاملے پر اتفاق رائے ہے کہ پی اے جی ڈی کو ایک ساتھ مل کر اس الیکشن میں جانا ہے ۔ان کے بقول یہ(گپکار اتحاد کا مشترکہ طور پر الیکشن لڑنا) کم و بیش ایک طے شدہ معاہدہ ہے ۔ ان کا مذید کہنا ہے کہ یہ الیکشن ترقی کے بارے میں نہیں ہے ، یہ بجلی ، سڑک اور پانی(روٹی اور مکھن کے مسائل) کے بارے میں نہیں ہے ۔ یہ پیغام دینا ہے کہ ہم متحد ہیں۔ یہ شناخت کی لڑائی ہے ، وجود کی لڑائی ہے ۔ یہ الیکشن جذبات کی بنیاد پر لڑا جائے گا۔خود فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی نے بھی حالیہ ایام میں اسی طرح کا ایک بیان دیا تھا اور آنے والے الیکشن ایک ساتھ لڑنے کا عندیہ دیا تھا۔کچھ سیاسی پنڈت کہتے ہیں پی اے جی ڈی اور کانگریس کے مشترکہ محاذ کا امکان نہیں ہے اور پرانی پارٹی کے ساتھ کوئی بھی اتحاد صرف حکمت عملی پر مبنی ہوگا۔سچ پوچھیں تو کانگریس نہ صرف قومی سطح پر بلکہ جموں و کشمیر میں بھی بد نظمی کا شکار ہے ۔پی ڈی پی کے ایک سینئر لیڈر نے کہا کہ کانگریس پی اے جی ڈی کے ساتھ اتحاد کے حق میں نہیں ہوگی کیونکہ بی جے پی اور اس کا ووٹ بینک جموں میں ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتوں میں یہ احساس ہے کہ یہ الیکشن اقتدار کے لیے نہیں ہے ۔لیکن جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے ، پی اے جی ڈی کے ساتھ کسی بھی اتحاد سے انہیں جموں میں نقصان پہنچے گا جو کہ ان کا روایتی ووٹ بینک ہے ۔ پی ڈی پی لیڈر کا کہنا ہے کہ بنیادی طور پر کانگریس اور بی جے پی کا حلقہ ایک ہی ہے ۔ ڈی ڈی سی انتخابات میں انہیں ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کچھ کوششیں کی گئیں، لیکن آپ دیکھیں کہ کانگریس کو اس وقت پی اے جی ڈی سے خود کو دور کرنا پڑا۔ اب اگر کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنا ہے ، تو یہ صرف حکمت عملی سے ہو سکتا ہے ۔حالانکہ پی اے جی ڈی کا مشترکہ محاذ کا مقصد چناب اور پیرپنچال میں مسلم ووٹ بینک کو مضبوط کرنا ہے ۔ اس سے وادی میں چھوٹی سیاسی جماعتوں جیسے سجاد لون کی پیپلز کانفرنس اور اپنی پارٹی کے انتخابی امکانات کم ہونے کا امکان ہے ۔ سیاسی دنگل کے اس میدان میں اب منحرف کانگریسی رہنما اور ڈیموکریٹک آزاد پارٹی کے سربراہ غلام نبی آزاد میں اُتر چکے ہیں اورکچھ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ بھی گپکار اتحاد کے لیے کھیل بگاڑ سکتے ہیں۔ موصوف کی نئی سیاسی پارٹی جموں میں پی اے جی ڈی کے رہے سہے اثرکو تو ختم کرے گی ہی اور ساتھ ہی پیر پنجال اور چناب خطوں میں بھی بی جے پی مخالف خاص طور پر مسلم ووٹ کو تقسیم کرکے بی جے پی کا راستہ آسان بناسکتی ہے ۔ حالانکہ کچھ دیگر مبصرین اس آرائ سے متفق نہیں ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ غلام نبی آزاد کسی بھی صورت میں بی جے پی کی بی ٹیم نہیں بنیں گے کیونکہ اس طرح سے وہ بقول ان کے سجاد لون یا الطاف بخاری کے متوازی بن جائیں گے ۔ ان مبصرین کے خیال میں آزاد اس وقت سیاسی بیابان میں ہیں اور ان کو اگر سیاسی طور پر اپنے آپ کو زندہ رکھنا ہے تو انہیں بیک وقت جموں ڈویژن کے مسلم بلاک اور کشمیر کے مسلم اکثریتی بلاک میں اپنے اثر نفوذ کو قائم رکھنا پڑے گا اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب وہ الیکشن سے قبل یا پھر الیکشن کے بعد پی اے جی ڈی سے کسی طرح کا اتحاد کریں گے ۔
دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کے آتے آتے کیا گپکار اتحاد خاص طور پر اس میں باقی رہ گئیں دو بڑی جماعتیں پی ڈی پی اور این سی تمام تر اختلافات کے باوجود ایک رہ پائیں گی۔ ابھی تک تو انہوں نے دبائو اور لبھائو کی ساری کاوشیں کامیابی کے ساتھ جھیلیں ہیں لیکن کیا مستقبل میں بھی ایسا ہی ہوگا۔ ایک بات طے ہے کہ بی جے پی اور ان کے ممکنہ اتحادی اس اتحاد کو ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے بلکہ کررہے ہیں ۔بی جے پی کا تو خاص ہدف ہی یہی دو جماعتیں اور انکی لیڈر شپ ہیں اور اگر بالفرض اگر ان کے آپسی اتحاد کو توڑنے میں اسے کامیابی حاصل ہوجاتی ہے تو حکومت سازی کا اس کا خواب ضرور شرمندئہ تعبیر ہوجائے گا اور وہ صورت حال نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی دونوں کے لئے کسی بھیانک خواب سے کم نہیں ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سارے سیاسی پنڈت اس خیال کے حامل دکھائی دیتے ہیں کہ مشترکہ مفاد، مشترکہ آفت کا مقابلہ کرنے اور اپنے وجود کو بچانے کے لئے نہ صرف نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی بلکہ کانگریس اور غلام نبی آزاد کو بھی بالآخر ہاتھ ملانا پڑے گا ، بصورت دیگر……
ان کی داستان بھی نہ رہے گی داستانوں میں










