سرینگر: جموں و کشمیر پولیس کی خصوصی تحقیقاتی اکائی (ایس آئی یو) نے سرینگر شہر کے مضافاتی علاقے صورہ کے آنچار اور گھاٹ علاقوں میں مبینہ طور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افراد کے گھروں میں چھاپے ڈالے۔ اس اکائی نے گزشتہ روز بھی کشمیر کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے تھے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن کو جاری رکھتے ہوئے پولیس کی اکائی ایس آئی یو نمبر ایک نے آج یہاں صورہ کے علاقے آنچار اور گھاٹ کے اندرونی علاقوں میں مشتبہ افراد کے گھروں کی تلاشی لی۔یہ تلاشی کارروائی ایف آئی آر نمبر 50/2022 کے تحت 307,302 آئی پی سی، 7/25 اے ایکٹ اور 16 18 20 یو ایل (پی) ایکٹ تھانہ صورہ کی تحقیقات کے سلسلے میں چلائی گئی۔
یہ چھاپہ مار کارروائی ایک مقامی عدالت سے سرچ وارنٹ حاصل کرنے کے بعد، مختلف ضلعی پولیس یونٹس کے تعاون سے اور ایگزیکٹیو مجسٹریٹ اور آزاد گواہوں کی موجودگی میں آنچار اور صورہ کے اندرونی علاقوں میں کی گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تلاشی کے دوران مناسب ایس او پیز اور ضروری تفتیشی طریقہ کار پر عمل کیا گیا۔
تاہم پولیس نے یہ واضح نہیں کیا کہ جن افراد کو تلاشی کے دائرے میں لایا گیا ان کے خلاف کس نوعیت کے الزامات ہیں۔ کسی گرفتاری کے بارے میں بھی پولیس نے کوئی اطلاع فراہم نہیں کی۔
واضح رہے کہ صورہ علاقے میں پانچ اگست 2019 کے فوراً بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے کئے گئے تھے جو کشمیر میں اس موقع پر سب سے بڑے مزاحمتی مظاہرے تھے جن کی بین الاقوامی میڈیا میں کافی تشہیر ہوئی۔پانچ اگست کو حکومت ہند نے جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرکے سابق ریاست کو دو مرکزی زیر انتظام علاقوں مین تقسیم کیا تھا۔ اس اقدام سے قبل کشمیر میں لاکھوں فوجی اور نیم فوجی دستوں کو تعینات کرکے مقامی آبادی کو کئی روز تک گھروں میں محصور کیا گیا تھا جبکہ انٹرنیٹ کی خدمات مکمل طور بند کردی گئی تھیں۔









