امت نیوز ڈیسک //
دہلی: سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن نے جموں وکشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک سے دہلی آفس میں پوچھ گچھ کی ہے۔ ستیہ پال ملک مرکزی ایجنسی کے دہلی ہیڈکوارٹر میں سوال و جواب کے لیے آج حاضر ہوئے تھے۔سابق گورنر پر الزام ہے کہ جب وہ جموں و کشمیر کے گورنر تھے تو انہیں دو فائلوں کی منظوری کے لیے 300 کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔
بتادیں کہ ستیہ پال ملک ملک کو 21 اگست 2018 کو جموں و کشمیر کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ اکتوبر 2019 میں ان کا تبادلہ گوا کر دیا گیا تھا۔گزشتہ برس 17 اکتوبر کو جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیہ پال ملک نے راجستھان میں ایک تقریب میں رشوت ستانی کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ سیکریٹریز نے مجھے بتایا کہ آپ کو فائلوں کو کلیئر کرنے کے لئے 150 کروڑ روپے مل سکتے ہیں۔
ستیہ پال ملک نے دعوی کیا کہ مجموعی طور پر انہیں دو بڑے صنعتی گھرانوں کی فائلوں کی منظوری کے لیے 300 کروڑ روپے کی رشوت کی پیشکش کی گئی تھی۔جموں و کشمیر انتظامیہ نے اس معاملے کو سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے سپرد کیا تھا۔اس سلسلے میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سب کچھ واضح ہو کیونکہ اعلیٰ عہدے کے فرد نے ایسے الزامات لگائے ہیں۔









