ہماچل: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ ہماچل پردیش کواپنے پیروں پر کھڑا ہونا اور ہندوستان کا ایک بڑا فارما ہب بنناطے ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ریاستوں اورملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت ہوگی۔
مسٹرمودی نے کہا کہ ریاست کی ترقی کے ابتدائی مرحلے کے لیے 10,000 کروڑ روپے کا التزام رکھا گیا ہے اور آنے والے برسوں میں یہ 20000 کروڑ روپے ہوجائے گا، جس سے پہاڑی ریاست میں ہزاروں بے روزگار نوجوانوں کو روزگار بھی ملے گا۔
وزیر اعظم نے اونا سے دہلی تک چوتھی وندے بھارت ٹرین کو ہری جھنڈی دکھانے کے بعد یہ بات کہی۔ انہوں نے ٹرین کی بوگیوں اور انجنوں کا معائنہ کیا۔
مسٹرمودی نے اونا ریلوے اسٹیشن پر بڑی تعداد میں جمع ہونے والی بھیڑ کا استقبال کیا۔ اس ٹرین کی رفتار 86 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی۔وزیر اعظم نے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی آئی ٹی) کیمپس کو بھی وقف کیا اور اونا ضلع کے ہرولی علاقے کے لئے ایک بڑے فارما ہب کا سنگ بنیاد رکھا۔
اس موقع پر مرکزی وزیر اطلاعات انوراگ ٹھاکر اور ہماچل کے وزیر اعلی جئے رام ٹھاکر بھی موجود تھے۔مسٹرمودی نے کہا کہ ترقی اور بی جے پی ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
انہوں نے اپنے دور حکومت میں ترقی کو نظر انداز کرنے پر کانگریس پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے انتخابات کے وقت منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھا اور پھر انہیں مکمل کرنا بھول گئی۔
مسٹرمودی نے کہا کہ بی جے پی کے بغیر ایک رینک اور ایک پنشن دینا ممکن نہیں تھا۔مسٹرمودی نے کہا کہ اب تک ادویات کے لیے درکار زیادہ تر خام مال کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کرنا پڑتا تھا، لیکن اب یہ اونا میں دستیاب ہوگا، اس سے دواؤں کی تیاری کی لاگت کم ہوگی، تو دوا سستی ہوگی۔
غریبوں کو سستی ادویات فراہم کرنے کی مہم کو مزید تقویت ملے گی۔ زراعت ہو یا صنعت، جب تک کنیکٹیوٹی نہیں ملتی، اس وقت تک کامیابی نہیں ملتی ہے۔ ننگل ڈیم سے تلواڑہ تک 40 سال پہلے دہلی حکومت نے مہر ثبت کردی۔ چالیس سال سے زائد کا عرصہ گزر گیا، زمین پر ایک بھی کام نہیں ہوا۔
اب اس ریلوے لائن پر کام زوروشور سے جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماچل پردیش میں اتنا طویل وقت گزارا کہ جب بھی اونا آتا ہوں تو ماضی کی یادیں میری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔ مجھے کئی بار ماں چنت پورنی دیوی کے سامنے سر جھکانے اور ان کا آشیرواد حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
حال ہی میں کانگریس چھوڑ کر بی جے پی میں شامل ہونے والے سابق وزیر اور چمبہ کے لیڈر ہرش مہاجن کو اسٹیج پر جگہ دی گئی۔ انہوں نے کہا، ”میں نے چمبہ میں اتنی بھیڑ کبھی نہیں دیکھی۔ چمبہ میری پیدائش اور کام کی جگہ ہے۔
میں نے بلا تفریق کام کیا۔ چمبہ کے 11000 سے زائد نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا۔ کانگریس پارٹی ختم، اب کچھ نہیں رہاہے۔ کانگریس میں ٹکٹ اور عہدے فروخت ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے عوام ایک نیا رواج بنائیں گے۔ آزادی کے امرت کال میں ہماچل پردیش کا سنہری دور شروع ہو چکا ہے۔









