وادی کشمیر کو ’پئروائور‘ بھی کہا جاتا ہے جس کا مطلب پیروںکی وادی ہے ۔ کیوں کہ یہاں پر بڑی بڑی شخصیات گزری ہیں جنہوںنے دین اسلام وادی کے ہر ایک کونے میں پھیلانے کا کام کیا ہے ۔ تاہم آج وادیٔ کشمیر صرف نام کی ہی پیروں کی وادی رہ گئی ہے کیوں کہ آج کی نوجوان نسل کی اچھی تعدادبے راہ روی کے ساتھ ساتھ منشیات کی لعنت میں ڈوبتی جا رہی ہے ۔
وادیٔ کشمیر میں آئے روز ایسے ویڈیو زسوشل میڈیا پر ہماری آنکھوں کے سامنے گزرتے ہیں جن میں ہمیں کشمیر کی نوجوان نسل کو منشیات کا استعمال کرتے دیکھتے ہیں ۔ ایسا ہی ایک ویڈیو اسی ماہ سرینگر کے نورباغ علاقے سے سامنے آیا جس میں وادی کے ہی کچھ نوجوان نورباغ علاقے میں بظاہر سگریٹ میں چرس بھرتے دیکھائی دئے وہیں کچھ انجکشن لگارہے تھے ۔ پولیس نے بیان میں کہا کہ تینوں نوجوان منشیات کے عادی ہیںا ور یہ نوجوان اپنی رگوں میں وہ ادویات بھر رہے تھے جو انہیں ڈی ایڈکشن سینٹر پر نگلنے کے لئے دی گئی تھیں۔ تینوں نوجوانوں کو پولیس نے واپس انسداد منشیات سینٹر بھیج دیا۔
فروری2019 میں آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزکے نیشنل ڈرگ ڈپنڈینس ٹریٹمنٹ سنٹر کی جانب سے کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جموں وکشمیر میں چھ لاکھ سے زائد افراد منشیات کی لت کے شکار ہو گئے ہیں اور اس طرح سے جموں وکشمیر پورے ملک میں پانچویں مقام پر ہے،یعنی جموں وکشمیر کی پانچ فیصد آبادی منشیات میں ملوث ہے ۔ 2016 کے بعد سے سرینگر میں قائم انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیوروسائینسزمیں نشے سے چھٹکارا پانے والے متاثرین کی تعداد 2660فیصد ی بڑھ گئی ہے ۔ اعدادوشمار کے مطابق مذکورہ انسٹی ٹیوٹ میں2016 میں489 متاثرین داخل کئے گئے تھے اور انکی تعداد سال2019 میں7420 تک پہنچ گئی ۔تاہم اگر چہ اگلے سال کرونا وائرس کی وجہ سے یہ تعداد گھٹ کر3536ہو گئی تاہم سال2021 میں یہ تشویشناک طور پر13500تک پہنچ گئی ہے۔اعداد و شمار کے مطابق سال2021 میں سرینگر میں سب سے زیادہ4183 متاثرین اس انسٹی ٹیوٹ میں داخل کئے گئے اسی طرح سے اننت ناگ سے1666، بارہمولہ سے1565 ،1338 پلوامہ سے اور کپواڑہ سے1247 مریضوں کو یہاں داخل کرایاگیا ۔وادیٔ کشمیر میں نوجوان بھنگ ،افیم،چرس،گانجھا،برائون شگر،ہیرائن جیسی منشیات کے عادی پائے جاتے ہیں ۔
رواں سال ہی وادی کے دس اضلاع میں انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز کی جانب سے محکمہ سوشل ویلفئیر اور ڈائریکٹوریٹ آف ہیلتھ کے اشتراک سے کئے گئے ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وادی میں 25 فیصدوہ بے روزگار افراد ہیں جو منشیات کا استعمال کرتے ہیں وہیں رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وادیٔ کشمیر کی 2.8 فیصد آبادی یعنی باون ہزارا فراد نشے کے عادی ہیںجن میں اوپیئڈاور ہیرائن کے عادی زیادہ ہیں ۔سروے میں مزید یہ بات سامنے آئی ہے کہ وادیٔ کشمیر میں منشیات کے عادی افراد ہیرائن کو حاصل کرنے کے ماہانہ88 ہزار روپئے خرچ کرتے ہیںاور نشے کو خریدنے کےلئے منشیات کے عادی افراد کسی بھی حد تک جانے کےلئے تیار ہوتے ہیں۔ اور رواں سال سرینگر سے ہی کئی خبریں موجود ہیں جب مساجد اور حج ہاوس میں گھس کر منشیات کے عادی افراد نے چوری کی ۔دوسری طرف سے جمو ں وکشمیر پولیس بھی منشیات فروشوں کے خلاف صف آرائ ہے اور ہر سال درجنوں منشیات فروشوں کو پی اےس اے کے تحت جیل بھی بھیجا جا رہا ہے ۔
وادیٔ کشمیر میں بے روزگاری ،پرتناو حالات اور گھریلوجھگڑے منشیات کی بڑی وجوہات مانی جاتی ہیں ۔رواں سال ہی ’مشن واپسی ‘ کے تحت سرینگر انتظامیہ نے 21 منشیات فروشوں پرپبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا ہے ۔تاہم وہیںدوسری طرف حکومت کی جانب سے جموںو کشمیر میں ڈپارٹمنٹل سٹورز پر بئیر فروخت کرنے کی تجویز کو منظوری دے دی گئی ہے ۔ فیصلے کے خلاف جموں وکشمیر کی لگ بھگ سبھی سیاسی جماعتوں نے شدید مذمت کی ہے ۔اس سلسلے میں جموں میں کانگریس ،بجرنگ دل اور ادھو ٹھاکرے گروپ کی شیو سینا نے احتجاج کرتے ہوئے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو شراب نہیں نوکری دو!پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے مرکزی سرکاری پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ’’ انکے ماڈل میں گجرات اور بہار میں شراب کی فروخت پر پابندی عائد ہے لیکن یہاں وہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے کےلئے ایک الگ قانون لائے ہیں ‘‘۔این سی نے فیصلے کو واپس لینے کی مانگ کرتے ہوئے ترجمان عمران نبی ڈار نے کہا کہ’’ ایک طرف انتظامیہ کا دعوی ہے کہ اس نے منشیات کے خلاف جنگ چھیڑی ہے اور دوسری طرف سے عوامی مقامات پر شراب والے مشروبات کی فروخت کو فروغ دے رہی ہے ۔وہیںدوسری طرف سے متحدہ مجلس علمائ جموں وکشمیر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’بھارت میں متعدد ریاستیں ایسی ہیں جہاں شراب اور ڈرگس پر سرکاری سطح پر نہ صرف مکمل پابندی ہے بلکہ اسکے خلاف سخت قوانین بھی وضع کئے گئے ہیں ،لیکن جموں وکشمیرجو مسلم اکثریتی علاقہ ہے‘ اس میں شراب اور منشیات کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی بے حد تشویشناک اور قابل مذمت ہے۔‘‘
ایک طرف جہاں حکومت نوجوانوں کو نشے سے دور رکھنے کے لئے آئے روز ہر ضلع میں تقاریب کا انعقاد کراتی ہے تو وہیں دوسری طرف سے حالیہ فیصلے پر مقامی سیاسی ومذہبی جماعتیں سیخ پا ہیں۔ اب دیکھنا ہو گا کہ حکومت فیصلے پرنظر ثانی کرتے ہوئے اسے واپس لیتی ہے یا نہیں ۔










