شاہد لطیف….
اُردن کے شاہی ادارے رائل اسلامک اسٹریٹجک سینٹر نے سال2022کے لیے500با اثر مسلمان شخصیات کی فہرست جاری کردی ہے جس میں بھارت سے تعلق رکھنے والے عالم دین اور جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود مدنی کو’ ’مین آف دی ایئر“ اور نومسلم امریکی خاتون عائشہ عبدالرحمان کو” وویمن آف دی ایئر“ قرار دیا گیا۔امسال بھی اس فہرست میں کشمیر سے میرواعظ مولوی محمد عمر فاروق کو شامل کیا گیا ہے۔
رائل اسلامک اسٹریٹجک سینٹر ایک آزادانہ تحقیقی، تدریسی اور اشاعتی ادارہ ہے جو ہر سال500 بااثر مسلمان شخصیات پر اپنی کتاب شائع کرتا ہے۔سال 2022کے لیے فہرست میں اوّل نمبر پر سعودی فرمانروا سلمان بن عبد العزیز جب کہ دوم پر ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای براجمان ہیں۔ اسی طرح تیسرا نمبر امیرِ قطر تمیم بن حمد الثانی اور چوتھے نمبر کے لیے ترکیہ کے صدر طیب اردوان حقدار قرار پائے ہیں۔پانچواں نمبر اُردن کے بادشاہ عبداللہ دوم کا رہا۔ آٹھویں نمبر پر متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان اور دسویں نمبر پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں۔ بااثر مسلمان شخصیات کی فہرست میں چھٹے نمبر پر پاکستان کے ممتاز عالم دین اور قانون دان جسٹس تقی عثمانی ہیں۔پاکستانی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ،محمد نواز شریف،پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، عمران خان، جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان، عالم دین مولانا طارق جمیل، امیر جماعت اسلامی سراج الحق، ڈاکٹر عطاالرحمان اور ملالہ یوسفزئی بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔قابل ذکر ہے کہ رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹڈیز سینٹر کی فہرست میں شامل بااثر500 مسلم شخصیات کو 31شعبہ ہائے زندگی سے شامل کیا جاتا ہے جن میں مذہب، سائنس، ٹیکنالوجی، خدمتِ خلق، سیاست اور آرٹ اینڈ کلچر شامل ہیں۔دنیا میں اس وقت قریب 2ارب مسلمانوں میں سے ان500 شخصیات کا تعین کرنا اگرچہ ایک مشکل امر ہے لیکن2009 ءسے یہ لسٹ ہر سال شائع کی جاتی ہے اور کئی معاشروں اور ممالک کے اندراس لسٹ کا اچھا خاصا اثر بھی وقوع پذیر ہورہا ہے۔

2009ءسے شائع ہونے والی اس فہرست میں اگرچہ ہر سال کچھ ردوبدل ہوتا رہتا ہے اور نئی شخصیات بھی متعارف کی جاتی رہتی ہیں لیکن اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ہر سال پرانی شخصیات ہی کو دہرایا جاتا ہے۔ اس فہرست کو مرتب کرکے شائع کرنے کا سلسلہ2009 ءسے شروع ہوا اور بلا کسی تعطل کے یہ سلسلہ ہر سال جاری رہا ہے۔ اس سال کی فہرست اور تفاصیل پر مشتمل کتاب کے چیف ایڈیٹر پروفیسر ایس عبداللہ شلیفر ہیں جبکہ ڈاکٹر طارق الغواری ایڈیٹر ہیں جبکہ اس میں درجن بھر مدیران کے ساتھ ساتھ محققین بھی شامل رہے ہیں۔ اردن کی ہاشمی حکومت کے زیر اثر شائع ہونے والے اس کتاب کے بارے میں عام تاثر یہی ہے کہ اس کی فہرست بنانے کا عمل شفاف اور کسی بھی قسام کی سیاسی مداخلت سے ماورا ہے۔امسال اس کا 22واں ایڈیشن شائع ہوا ہے جس کی رو سے مرد حضرات کے زمرے میں ہندوستان کے معروف عالم دین اور سیاسی لیڈر مولانا محمود مدنی کا نام آیا ہے۔ ان کو سال کا بہترین مسلم مرد قرار دیتے ہوئے لکھا گیا ہے:مولانا محمود اے محمود مدنی جمعیت علمائے ہند کے صدر ہیں، جو ہندوستان کی سب سے قدیم اور سب سے معزز مسلم تنظیموں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے اس عہدے پر فائز ہونے سے پہلے تقریباً دو دہائیوں تک اس کے جنرل سکریٹری کے طور پر خدمات انجام دیں جس پر ان کے نامور والد مولانا اسعد مدنی50 سال سے زائد عرصے تک فائز رہے۔ انہوں نے دہشت گردی اور اسلامو فوبیا جیسے اہم مسائل سے نمٹ کر تنظیم کو تقویت بخشی ہے اور ساتھ ہی ساتھ نچلی سطح کے اس کام کو کبھی پس پشت نہیںڈالاہے جو ہندوستانی مسلمانوں کے روز مرہ کے خدشات کا مرکز و محور ہے۔مولانا مدنی ایک اسلامی اسکالر، عوامی مقرر، سماجی کارکن اور اسلامی انسانی اقدار، رواداری اور امن کے داعی ہیں۔ جے یو ایچ کے پلیٹ فارم کے ذریعے، اس نے دہشت گردی کی تمام شکلوں میں مذمت کرنے کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو پکارا جو اس مسئلے کو مسلم کمیونٹی کو قربانی کا بکرا بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔ انہوں نے ان مسائل کے تمام اثرات سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی جلسوں اور بین الاقوامی علمی کانفرنسوں کا باقاعدگی سے اہتمام کیا ہے۔ اس نے مسلسل اور واضح طور پر داعش کی برائی کوللکاراہے۔ دوسری طرف، مولانا نے سینکڑوں مسلمانوں کے مقدمات کا دفاع بھی کیا ہے جنہیں دہشت گردی کے مقدمات میں جھوٹے طور پر پھنسایا گیا ہے۔ انہوں نے ہندوستانی مسلمانوں کے حقوق (بشمول شہریت کا حق، اور مذہبی فرائض پر عمل کرنے کا حق) کے تحفظ کے حوالے سے دیگر معاملات کو بھی اٹھایا ہے۔حکمراں بی جے پی کی جانب سے ایک طرف تو ہندو قوم پرستی یعنی ہندوتوا کو نقصان دہ سطح تک پروان چڑھایا جارہا ہے اور دوسری جانب ہندوستانی مسلمانوں کو بھی بار بار زیر عتاب لانے کا سلسلہ دراز تر کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے جیسا کہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس کا ردعمل کثیر الجہتی رہا ہے۔ سب سے پہلے، اسلامو فوبیا اور نفرت کے بڑھتے ہوئے واقعات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے، مولانا محمود مدنی نے جے آئی آئی ایم(انڈین مسلمانوں کے لیے انصاف اور بااختیار بنانے کا اقدام)کی بنیاد رکھی ہے۔ یہ اقدام اسلامو فوبیا کے کیسوں کو منظم طریقے سے ریکارڈ کرتا ہے اور متاثرین کو وکالت اور دیگر اقسام کی مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک سادہ اور ضروری قدم ہے جو بیرونی دنیا کو اس مسئلہ کی حقیقت دکھاتا ہے۔مسلمانوں کے حقوق کے دفاع کے ساتھ ساتھ، مولانا مدنی ہمیشہ سے تنوع میں اتحاد کے ایک بڑے حامی رہے ہیں اور ہندوستان میں مختلف عقائد کے درمیان ہم آہنگی کے تعلقات پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں۔ جیسا کہ ان کے مشہور دادا مولانا حسین احمد مدنی 1920ءکی دہائی میں کیا تھا، وہ قوم پرستی کے تصور پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔ اس کا م کوعملی سطح پر آگے بڑھاتے ہوئے مولانا محمود نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے اور تمام مذاہب کے رہنماو¿ں کو شامل کرنے کے لیے ہزارسے زیادہ بین المذاہب کانفرنسوں، سد بھاونا سنسد کی نیو رکھی ہے۔جے یو ایچ کی بنیاد انسانی ہمدردی، فلاحی اور تعلیمی سرگرمیاں رہی ہیں۔ جے یو ایچ میں اپنی 52سالہ خدمات کے دوران انہوں نے گجرات، بہار، دہلی، تامل ناڈو، کشمیر، کیرالہ، آسام، یوپی، آندھرا پردیش، اڈیسہ وغیرہ میں سانحات کے متاثرین کی خدمت کی ہے۔ وہ انسانی حقوق کی تحریک کے بھی بڑے حامی ہیں۔ اقلیتوں اور پسماندہ لوگوں کےلئے ان حقوق کی موجودگی،ہندوستان اور اس کے سیکولرازم اور تکثیریت کے اصولوں کی روشنی میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔دسیوں ہزار مکتبوں اور مدارس میں دس لاکھ سے زیادہ بچوں کی تعلیم کے ذمہ دار، مولانا مدنی نے جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تعلیمی نصاب کو اپ گریڈ کرنے پر بھی کام کیا ہے۔ دارالعلوم کے نصاب کو اپ گریڈ کرنے کے لئےانہوں نے ایک ایسا نظام متعارف کرایا ہے جس کے تحت مدارس کے طلباءکو ثانوی سطح (دسویں جماعت) کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے سند یافتہ اور تسلیم کیا جاتا ہے۔ موجودہ مذہبی نصاب میں یہ ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، جمعیت یوتھ کلب (جے وائے سی) نوجوانوں کو دیگر مہارتوں میں بھی بااختیار بناتا ہے۔ اس کلب کا اگرچہ جمعیت علمائے ہند کے ساتھ براہ راست الحاق ہے لیکن یہ عالمی شہرت یافتہ خود مختار ادارہ ”بھارت سکاوٹس اینڈ گائیڈز“ کے بینر تلے کام کرتا ہے جس کے چیئرمین مولانا محمود مدنی ہیں۔ان کا وڑن نوجوانوں کی انفرادی، ذمہ دار شہری اور مقامی، قومی اور بین الاقوامی برادریوں کے ارکان کے طور پر اپنی مکمل جسمانی، فکری، سماجی اور روحانی صلاحیتوں کو حاصل کرنے میں مدد کرنا ہے۔مولانا مدنی ہندوستانی مسلم کمیونٹی کی ایک سرکردہ آواز ہیں، جو200ملین مضبوط ہے۔ مولانا کے ایک اقتباس کا حوالہ دیتے ہوئے میگزین میں رقم کیا گیا ہے نفرت کو نفرت سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے متعلق یہ بھی لکھا گیا ہے کہ دین اسلام اور ہندی مسلمانوںکے دفاع کے ساتھ ساتھ مولانا محمود ہندوستان میں مذہبی منافرت کو ختم کرنے اور مذاہب کے درمیان اتحاد و اتفاق قائم کرنے کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں جو انہیں دوسرے لوگوں سے ممتاز بناتا ہے۔
مولانا محمود کے ساتھ خواتین کے زمرے میں جس خاتون کو فہرست میں اول مقام ملا ہے ان کا تعلق امریکہ سے ہے۔عائشہ عبدالرحمن بیولی جن کی پیدائش 1948ءکی ہے کلاسیکی اسلامی کاموں کو عربی سے انگریزی میں ترجمہ کرنے کے ضمن میں کامیاب مترجمین میں سے ایک ہیں۔ 1962ءمیں اسلام قبول کرنے کے بعد،انہوں نے پچھلی5دہائیاں ایمانداری سے اسلامی روایت کو سیکھنے اور اس کی کلیدی عبارتیں انگریزی بولنے والی عالمی مسلم کمیونٹی کے لیے دستیاب کرنے میں گزاری ہیں۔بعض اوقات اپنے شوہر عبدالحق بیولی کے ساتھ مل کر، جن کے ساتھ اس نے قرآن کریم کا ترجمہ کیا تھا۔ انہوں نے ترجمہ اور اپنی تحریروں میں جن مضامین کا احاطہ کیا ہے ان میں قرآن، تفسیر قرآن (تفسیر)، حدیث، اسلامی قانون، تصوف اور اسلامی تاریخ پر کام شامل ہیں۔ ورلڈ کیٹ یونین کیٹلاگ نے اسے3 زبانوں میں271اشاعتوں میں37کام اور558لائبریری ہولڈنگز کے مصنف یا مترجم کے طور پر درج کیا ہے۔ عائشہ نے برکلے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا سے مشرقی زبانوں میں ایم اے کیا۔انہوںنے قاہرہ کی امریکن یونیورسٹی میں ایک سال گزارا اور قاہرہ یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تصوف پر ایک سیمینار میں شرکت کی۔70 کی دہائی کے اوائل میں وہ شیخ ڈاکٹر عبدالقادر صوفی المربت (متوفی 2012ء) سے ملیں اور ان کی شاگرد بن گئیں۔ مسز بیولی نے اپنی روایتی اسلامی تعلیم کا آغاز شیخ محمد بن الحبیب آف میکنیس (متوفی1972)کی تعلیمات کے بعد مرحوم شیخ عبدالقادر الصوفی المربت کے تحت کیا۔ سابق الذکرکی رہنمائی اور ترغیب کے تحت انہوں نے کلاسیکی اسلامی کاموں کا عربی سے انگریزی میں ترجمہ کرنا شروع کیا۔ اس نے یہ کام بلا روک ٹوک جاری رکھا۔ انگریزی بولنے والی عالمی مسلم کمیونٹی کے لیے بہت سے کلیدی اسلامی نصوص دستیاب کرانا، جن میں سے اکثر کو ان کے ترجمے کے ذریعے پہلی بار ان نصوص سے متعارف کرایا گیا ہے۔ عائشہ کی بہت سی تخلیقات ان کی ویب سائٹ پر انٹرنیٹ پر مفت دستیاب ہیں، یا مشہور مسلم پبلشرز کے ذریعے شائع کی گئی ہیں۔ انکی جانب سے امام مالک رحمہ اللہ علیہ کی معروف کتاب الموطا اور قاضی عیاض کی کتاب الشفاءکا ترجمہ خاص طور پر معروف ہے اور دنیا بھر میں ہزاروں تدریسی حلقوں کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا ایک اور قابل ذکر ترجمہ ابن سعد کی کتابوں کی طبقات ہے۔

500غیر معمولی خواتین و حضرات کی اس فہرست میں کشمیری لیڈر اور مذہبی رہنماءمولانامولوی محمد عمر فاروق کا نام بھی موجود ہے۔ان کے متعلق کتاب میں لکھا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمر فاروق کو اپنے والد کے قتل کے بعد1990میں17 سال کی عمر میں41ویں میرواعظ (کشمیر میں مسلمانوں کے روایتی مبلغ) کا ورثہ ملا۔20سال کی کم عمری میں وہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین اور بانی بن گئے، جو جموں و کشمیر میں آزادی کی حامی جماعتوں کے اتحادپر مشتمل ایک فورم ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، یورپی یونین کی پارلیمنٹ اور او آئی سی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ہے اور بھارت اور پاکستان دونوں کے ساتھ بات چیت کی وکالت کی ہے تاکہ کشمیری عوام کی اُمنگوں کو پورا کیا جا سکے۔ وہ اگست2019ءسے گھر میں نظر بند ہیں….عمر فاروق کی اس فہرست میں شمولیت پہلی مرتبہ نہیں ہے بلکہ وہ اس سے قبل بھی کئی بار اس فہرست میں شامل رہے ہیں۔ اگر حقیقت کا سامنا کیا جائے تو کشمیر کے اندر ان کا اثر نفوذ پہلے سے بہت کم ہوچکا ہے یہاں تک کہ شہر خاص جہاں ان کی طوطی بولا کرتی تھی وہاں بھی ان کا اثر بہت کم ہوا ہے۔ اس کی بڑی وجہ2019ءکے بعد سیاسی اور مذہبی طور پر ان کا منظر سے غائب ہوجانا ہے۔ کشمیر کے سیاسی، دینی اور سماجی حلقوں کے اندر اب یہ بات تسلیم شدہ مانی جاتی ہے کہ2019ءمیں مرکزی حکومت کی جانب سے دفعہ 370 کی منسوخی سے اگر کسی کا سب سے زیادہ سیاسی و سماجی نقصان ہوا ہے وہ ڈاکٹر عمر فاروق ہی ہیں۔اس کے لئے مبصرین جہاں ان کی نظر بندی کو ذمہ دار مانتے ہی ہیں وہیں پر ان کی ذاتی عدم دلچسپی ،اور ایک دم سے غیر متحرک ہوکر منظر سے تقریباً معدوم ہوجانے کو بھی اس کا ذمہ دار گردانا جاتا ہے۔ بہرحال عالمی سطح پر500 چنندہ مسلم شخصیات میں ایک بار پھر شمولیت انہیں اور ان کے منصب کو ایک قسم کی ممتازپہچان دلاتی ہے۔ دیکھنا ہے کہ کیا وہ اس امتیاز کو بروئے کار لاتے ہوئے منظر نامے سے اپنی معدومیت کو ختم کرنے کی کوئی کوشش کریں گے یا پھر ماضی قریب ہی کی مانند غیر فعال رہنے میں ہی عافیت جانیں گے۔
حقیقت کا سامنا کیا جائے تو کشمیر کے اندر میر واعظ کا اثر نفوذ پہلے سے بہت کم ہوچکا ہے!











