کیا آج تک ہوئے تین بیک ٹو ولیج پروگرامات میں اُٹھائے گئے تمام مسائل حل ہوگئے؟
جموں کشمیر انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ ہفتے سے ” بیک ٹو ولیج “ یعنی چلیں گاﺅں کی اور، کا چوتھا مرحلہ شروع کیا ۔جموں کے ساتھ ساتھ وادی میں بھی اسی پروگرام کیے ساتھ افسران مصروف نظر آرہے ہیں ۔27 اکتوبر کو شروع ہوئے چوتھے مرحلے کا اختتام 3نومبر کو ہوا۔اس پروگرام میں 25 ہزار سرکاری ملازمین اور4500 گیزٹیڈ افسران کو پنچائیتوں پر تعینات کیا گیا تھا ۔اس پروگرام کا ٹارگیٹ تھا کہ کہ دیہی علاقوں میں آٹھ لاکھ لوگ اس مہم میں شرکت کریں گے۔جبکہ اسکے علاوہ2 لاکھ مختلف اقسام کی اسناد بھی اس پروگرام کے ذریعے اجرا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا ۔
بیک ٹو ولیج پروگرام کی شروعات جولائی2019ءمیں اُس وقت کے گورنر ستیہ پا ل ملک کے دور میں ہوا تھا جس کا مقصد دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں اور انتظامیہ کے درمیان رابطہ مضبوط بنانا تھا ۔اگرچہ تب عوام کی جانب سے اس پروگرام کے تئیں مثبت ردعمل دیکھا گیا اور لوگوں کی کثیر تعداد نے ان پروگرموں میںشرکت کی تاہم اب عوام کی شکایت یہ ہے کہ جن مسائل کو انہوں نے تب افسران کے سامنے حل کرنے کے لئے اُجاگر کئے تھے وہ آج بھی جوں کے توں ہیں اور آج تک حل نہیںہو پائے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں مایوسی پائی جا رہی ہے ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ انتظامیہ کی جانب سے اُٹھایا گیا یہ قدم کہ لوگوں کے گھروں تک پہنچ کر ان کے مسائل سننا ہے تاہم دوسری طرف سے لوگوںکے دروازوں تک پہنچ جانے کے باوجود بھی مسائل حل نہیں کئے جا رہے ہیں۔
بیک ٹو ولیج پروگرام کے تحت ہزاروں افسران دیہات میں جا کر لوگو ں کے مسائل سنتے ہیں اور انکے ازالے کا وعدہ بھی دیتے ہیں تاہم لوگوں کے مطابق اس پروگرام کے زمینی سطح پر وہ نتائج سامنے نہیں آئے ہیں جن کی توقع کی جا رہی تھی ۔اس کا ثبوت ایک سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے ایک ویڈیو کے طور پر بھی ہے۔ سوپورمیں بیک ٹو ولیج پروگرام کے دوران ایک شخص نے کہا کہ سعدپورہ گاوں کے باشندے پچھلے تیس سالوں سے پینے کے پانی سے محروم ہیں اور وہ پچھلے کئی سالوں سے دفتروں کے چکر کاٹ رہے ہیں ۔اس دوران بات کرنے والے شخص نے محکمہ آبپاشی کے خلاف بھی نعرے بازی کی۔ اس وائر ل ہوئے ویڈیو کے بعد کئی سوالات کھڑ ے ہوتے ہیں کہ اگر پچھلے کئی سالوں سے یہ پروگرام کیا جا رہاہے تو آج تک دیہی علاقے بنیادی سہولیات سے محروم کیوں ہیں؟ان بنیادی سہولیات میں صرف پانی بجلی اور سڑک کا ہی ذکر کیا جائے تو کئی دیہات آج بھی ان سہولیات سے محروم ہیں ۔دوسری طرف سے ان پروگرامات کے منعقد کرنے کے دوران کروڑوں روپئے انتطامیہ کی جانب سے اشتہارات ، افسران کے ٹرانسپورٹ،رہن سہن اور کھانے پر خرچ کئے جاتے ہیں۔ ادھر جموں وکشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے جنرل سیکریٹری گنونت سنگھ نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بیک ٹو ولیج پروگرام کو بیکار قرار دے کر کہا کہ اس پروگرام پر وقت ،پیسہ اور وسائل ضائع کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پہلے تین مراحل عام لوگوں کو کامیابی فراہم کرنے کے مقصد کو پورا کرنے میں ناکام رہے۔
وہیں دوسری طرف سے اس مہم پر شہری علاقوں کے لوگ یہ سوال اُٹھا رہے ہیں کہ اگر” گاﺅ ں کی طرف“ تو پھر ”شہر کی جانب“ افسران دورہ کر کے عوامی مشکلات کا ازالہ کیوں نہیں کرتے ہیں ۔میر عمران نامی ایک ٹوئٹر صارف نے پرانے بس اڈہ بٹہ مالو کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا”بیک ٹو ولیج ،لیکن شہر کے بارے میں کیا خیال ہے ؟پرانے بس سٹینڈ کو اب کچراپھینکے کےلئے استعمال کیا جاتا ہے۔اسطرح کے کچرے سے ماحولیاتی آلودگی اور صحت کیلئے خطرات پیدا کئے ہیں ۔میونسپل کونسل سرینگر سے شکایت کی گئی تھی تاہم وہاں بتایا گیا کہ ایس ڈ ی اے ( سرینگر ڈیولوپمنٹ اتھارٹی)کے تحت آتا ہے ۔اب ان سے کچرا صاف کرنے کی درخواست کی گئی ہے“۔وہیں ایک اور صارف نے لکھا کہ بیک ٹو ولیج پروگرام کو بٹہ مالو سے ہی شروع کیا جا نا چاہیے!ان سب خامیوں کے بیچ سوالات ضررو کھڑے ہوتے ہیں کہ کیا آج تک ہوئے تین بیک ٹو ولیج پروگرامات میں اُٹھائے گئے تمام مسائل حل ہوگئے۔ اور اگر حکومت اس پروگرام پر اتنا پیسہ صرف کرتی ہے تو اسکے باوجود بھی عوامی مسائل جوں کے توں کیوں ہیں ؟ تو کیاان پروگرامات کے کرانے کا مقصد پیسے اور وقت کا ضیاع تو نہیں؟
بیک ٹو ولیج پروگرام پر اتنا پیسہ صرف کرنے کے باوجود بھی عوامی مسائل جوں کے توں کیوں ہیں ؟ کیاان پروگرامات کے کرانے کا مقصد پیسے اور وقت کا ضیاع تو نہیں؟










