امت نیوز ڈیسک //
جموں پولیس نے صوبے میں ملی ٹینٹوں کے ایک گروہ کا پردہ فاش کر کے تین افراد کو اسلحہ و گولہ بارود سمیت حراست میں لینے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس کے ایک ترجمان نے بتایا کہ 8 اور 9 نومبر کی درمیانی شب جموں و کشمیر پولیس کے اہلکار قومی شاہراہ پر ڈیوٹی دے رہے تھے کہ اس دوران ایک اوئیل ٹینکر زیر نمبر 2965-JK02BF جو شاہراہ پر رکا پڑا تھا کو آگے بڑھنے کو کہا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مذکورہ اوئیل ٹینکر انور نمنٹ پارک کے نزدیک اچانک رک گیا چنانچہ پولیس کی پیٹرولنگ پارٹی نے ڈرائیور سے آگے بڑھنے کی استدعا کی تاہم اوئیل ٹینکر کے ڈرائیور نے یوٹرن لیا اور نروال کے قریب گاڑی کو روکا۔
ان کے مطابق پیٹرولنگ پارٹی کو معلوم ہوا ہے کہ او ایل ٹینکر کو دو مرتبہ آگے بڑھنے کو کہا گیا لیکن وہ پیچھے جارہا ہے جس پر پولیس ٹیم کو شک ہوا اور ڈرائیور سے کچھ سوالات پوچھے تاہم ڈرائیور پولیس پارٹی کے ساتھ الجھ پڑا جس کے بعد ڈرائیور اور گاڑی میں سوار مزید دو افراد کو حراست میں لے کر ان کے خلاف ایف آئی آر زیر نمبر 284 کے تحت کیس درج کیا گیا۔ موصوف ترجمان نے گرفتار شدگان کی شناخت ڈرائیور محمد یاسین ولد محمد اسماعیل ساکن پو چھل پانپور ، فرمان فاروق ولد فاروق احمد ساکن در نگه بل پانیور اور فاروق احمد ولد عبدالعزیز بٹ ساکن در نگہ بل پانپور کے بطور کی ہے.
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی کارروائی کے بعد جموں پولیس نے اس حوالے سے کشمیر پولیس کے ساتھ رابطہ قائم کر کے گرفتار شدگان کے بارے میں مکمل تفصیلات فراہم کر نے کو کہا۔ ایمان کے مطابق کشمیر پولیس نے بتایاکہ ٹینکر ڈرائیور یو ایل اے پی کیس میں پولیس کو مطلب ہے اور وہ ممنوع تنظیم جیش کا قریبی ساتھی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ڈرائیور نے سخت پوچھ تاچھ کے بعد پولیس کو بتایا کہ وہ جموں ہتھیاروں کی سمگلنگ کے لئے آ یا ہوا تھا اور جیش کے پاکستانی ہینڈ لر شہباز نے جموں سے ہتھیارا ٹھاکر کشمیر میں سر گرم ملی ٹینٹوں تک پہنچانے کی ذمہ داری سونپی تھی۔ پولیس بیان کے مطابق پوچھ تاچھ کے دوران ڈرائیور نے بتایا کہ اس نے ہتھیار اور گولہ بارود اوئیل ٹینکر میں چھپائے ہیں۔ پولیس نے مجسٹریٹ کی موجودگی میں اوئیل ٹینکر سے 3اے کے 56رانکلیں ، ایک پستول، نو میگزین 191 گولیوں کے راونڈ ، 6 گرینیڈ اور دوسر اقابل اعتراض مواد برآمد کر کے ضبط کیا۔










